پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 21 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں 40 کلو گرام گندم کی ریلیز قیمت (نہ کہ امدادی قیمت) 2,900روپے مقرر کی گئی ہے۔
26 مارچ ، 2025
کئی سوشل میڈیا صارفین ایک پوسٹر کی تصویر شیئر کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں کسانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت 2675روپے فی 40 کلوگرام گندم سے زیادہ قیمت پر گندم بیچتے ہیں تو انہیں 3 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ جو پوسٹر گردش کر رہا ہے وہ اگست 2024 کا ہے، اس برس پنجاب حکومت کی جانب سے ایسی کوئی پالیسی نافذ نہیں کی گئی ہے۔
18 مارچ کو فیس بک پر ایک وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جو کسان 40 کلو گرام گندم 2,675روپے سے زیادہ قیمت پر بیچیں گے، انہیں3 سال کی قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ پوسٹ اس حکم کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے منسوب کرتی ہے۔
پوسٹ کے ساتھ جڑی تصویر پنجاب حکومت کا ایک آفیشل بینر معلوم ہوتی ہے، جس میں ضلع بہاولنگر میں 40 کلو گرام گندم کی قیمت 2,675روپے مقرر کی گئی ہے، اس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اگر قیمت کی خلاف ورزی کی جائے یا حکومت کی منظور شدہ قیمت پر گندم نہ بیچی جائے تو قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
اس پوسٹ کو 217 سے زائد مرتبہ شیئر اور 236 بار لائک کیا گیا ہے۔
اسی طرح کے دعوے وسیع پیمانے پر X (جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) پر یہاں اور یہاں بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
پنجاب کے چار سرکاری عہدیداروں نے تصدیق کی ہےکہ وائرل پوسٹر پچھلے اگست کا ہے اور یہ حالیہ نہیں ہے۔
صوبہ پنجاب میں قیمتوں کے ضابطے کے ذمہ دار ادارے پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ (PCCMD) کے سیکرٹری محمد اجمل بھٹی نے جیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ”پوسٹر پچھلے سال کا ہے۔“
محمد اجمل بھٹی نے وضاحت دی کہ گندم کی قیمتوں کے لیے دو کیٹیگریز ہیں، کم از کم امدادی قیمت (MSP)کا اعلان اس وقت کیا جاتا ہے جب حکومت کسانوں سے گندم خریدتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: ”حکومت پنجاب نے ابھی تک پروکیورمنٹ کی بابت کوئی فیصلہ نہیں لیا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط کے تحت بھی ہم امدادی قیمت کا تعین نہیں کریں گے۔“
دوسرا ریلیز قیمت ہے، جو وہ نرخ ہے جس پر حکومت اپنے ذخیرہ شدہ گندم کو فروخت کرتی ہے، نیچے 21 مارچ کو پرائس کنٹرول اور کموڈٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن ہے جس میں 40 کلو گرام گندم کی ریلیز قیمت 2,900 روپے مقرر کی گئی ہے۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال پنجاب پرائس کنٹرول آف ایسینشل کموڈٹیز ایکٹ 2024 منظور کیا تھا، جو اسے تمام ضروری اشیاء بشمول گندم کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یہ قانون کسانوں کو کسی بھی ضروری اشیاء کو اس کی پرائس کنٹرول کونسل کے مقرر کردہ نرخ سے زیادہ پر بیچنے یا دوبارہ بیچنے سے روکتا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے 3سال قید یا 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں شامل ہیں۔
محمد اجمل بھٹی کا کہنا تھا کہ قانون کے باوجودIMF کی مقرر کردہ شرائط کی وجہ سے صوبائی حکومت اس سال اوپن مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ ”اس [قانون] میں ہمارے پاس یہ پاور ہے لیکن یہ بالکل آخری اقدام ہوگا کہ جب مارکیٹ بالکل نہ سنبھل رہی ہو، لیکن اس طرف چیزیں جائیں گی نہیں جو ہمیں لگ رہا ہے۔“
اس کے علاوہ، بہاولپور ڈویژن کے محکمہ خوراک کے ڈپٹی ڈائریکٹر عدنان بدر نے بھی جیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر تصدیق کی کہ آن لائن گردش کرنے والا پوسٹر پچھلے سال اگست کا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ IMF کے ساتھ بات چیت کے بعد مارکیٹ کو اب ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا اور صوبائی حکومت اس سال گندم خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
بہاولنگر کے ضلعی فوڈ کنٹرولر فیصل شریف اور ڈپٹی کمشنر آفس کے کنٹرول روم انچارج محمد اسد نے بھی ان پوسٹرز کو پرانا بتایا اور حالیہ قرار نہیں دیا۔
فیصلہ: گمراہ کن۔ وائرل پوسٹر پرانا ہے، اور پنجاب حکومت نے اس سال ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر)@GeoFactCheck اور انسٹا گرام@geo_factcheck پر فالو کریں۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔