03 اپریل ، 2025
کراچی: پاکستان میں مہنگائی کی شرح مارچ 2025 میں مزیدکم ہوئی ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مارچ 2025 میں مہنگائی کی شرح 0.7 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ 1.5 فیصد تھی۔
ایک سال پہلے یعنی مارچ 2024 میں یہ شرح 20.7 فیصد تھی، یعنی گزشتہ سال کی نسبت مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
شہری علاقوں میں مہنگائی 1.2 فیصد تک محدود رہی، جو فروری میں 1.8 فیصد تھی جب کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح جوں کی توں یعنی صفر فیصد رہی۔ مہنگائی میں یہ کمی عوام کے لیے خوش آئند ہے۔
مہنگائی میں مسلسل کمی پالیسی سازوں کے لیے خوش آئند ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو معیشت کی بحالی اور قیمتوں میں استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ پچھلے ماہ ہونے والے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی نہ کرنےکا فیصلہ کیا اور اسے 12 فیصد پر برقرار رکھاتاکہ معیشت کو استحکام دیا جاسکے۔
کنزیومر پرائس انڈیکس میں خوراک کا حصہ سب سے زیادہ (34.6فیصد) ہے، جو اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ مارچ 2024 میں فوڈ انڈیکس 278.3 ریکارڈ کیا گیا جو سالانہ بنیادوں پر 5.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر چند اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جن میں ٹماٹر 36 فیصد ، تازہ پھل 19 فیصد اور انڈے 15فیصد مہنگے ہوئے۔ اسی طرح کچھ اشیاء سستی ہوئیں، جیسے کہ پیاز 15فیصد، چائے 8 فیصد اور آلو 7 فیصد سستے ہوئے۔
دیگر میں رہائش کے اخراجات میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 1.2 فیصد کمی ہوئی جب کہ لباس، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے اخراجات میں 11 سے 14 فیصد اضافہ ہوا۔
مہنگائی میں کمی سے عام آدمی کے لیے زندگی کچھ آسان ہوسکتی ہے، مگر خوراک، رہائش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ امید ہےکہ حکومت مہنگائی کو مزید کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرےگی۔