Time 04 اپریل ، 2025
بلاگ

زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ تو کچھ لوگ اپنی متعصبانہ اور تنگ نظر سوچ کی وجہ سے اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں اور اپنے مسخرے پن پہ انہیں شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔

 یہ لوگ تاریخ سے نابلد ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ انسانی سیاسی تاریخ میں بڑے بڑے رہنما پیدا ہوئے، جو مقبولیت کی انتہا پر تھے اور جنہوں نے تاریخ کی کایا پلٹ دینے والے انقلابات برپا کئے لیکن تاریخ نے وقت کیساتھ ان کے سیاسی فلسفہ کو غلط ثابت کیا اور وہ سیاسی طور پر مر چکے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی کو ہوا دیکر عوامی حمایت یا مقبولیت حاصل کی اور اس عوامی حمایت سے جو تبدیلی یا انتشار برپا کیا، وہ انہی رہنماؤں، انکی سیاسی جماعتوں اور خود عوام کیلئے تباہ کن ثابت ہوا۔ ان رہنماؤں میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنیوالے، قوم پرست اور مذہبی سوچ کے حامل سیاستدانوں کیساتھ ساتھ فوجی طالع آزما بھی شامل تھے۔

جمہوری جدوجہد کا راستہ تباہ کن مہم جوئی یا انتشار کے راستے سے بہتر ہے۔ مہم جوئی اور انتشار کا راستہ سامراجی اور عوام دشمن قوتوں کے فائدے میں ہوتا ہے کیونکہ اسکے ذریعہ عوام سے وہ بھی چھن جاتا ہے، جو اس نے پرامن جمہوری جدوجہد سے حاصل کیا ہوتا ہے۔ 

اسلئے سامراجی اور عوام دشمن قوتیں پر امن جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنیوالوں سے ہمیشہ خوف زدہ رہتی ہیں اور انہیں اپنے قہر کا نشانہ بناتی ہیں۔ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بے مثل قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں۔ پیپلز پارٹی کی پر امن جمہوری جدوجہد اور قربانیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

 آج اگر پاکستان میں ایک وفاقی پارلیمانی جمہوری آئین ہے، جمہوریت ہے، وفاقی اکائیوں اور عوام کو کچھ ملا ہے تو وہ شہید بھٹو اور انکے سیاسی وژن پر عمل کرنیوالی پاکستان پیپلز پارٹی کی وجہ سے ملا ہے۔ شہید بھٹو کے سیاسی وژن کی بنیاد پر پیپلز پارٹی آج بھی عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت کے طور پر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک کارگر ( Relevant ) ہے ۔ 

اسلئے بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید جیسا مدبر سیاستدان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ حالات کو بین االاقوامی اور تاریخی تناظر میں دیکھتے تھے۔ انکی سوچ سطحی نہیں بلکہ گہری تھی۔ جس زمانے میں انہوں نے پارٹی بنائی، اس زمانے میں عالمی اشتراکی تحریک بہت مضبوط تھی اور سوشلسٹ انقلابات برپا ہو رہے تھے لیکن شہید بھٹو کی نظر مستقبل پر تھی۔ انہیں پتہ تھا کہ اس اشتراکی تحریک کا انجام کیا ہو گا ۔

 اسلئے انہوں نے ملک میں اشتراکی آمریت کا نعرہ لگانے کی بجائے جمہوریت کو اپنی سیاست قرار دیا، جس پر بالآخر اشتراکی ( سوشلسٹ ) ممالک کو بھی آنا تھا لیکن بڑی تباہی کے بعد۔ شہید بھٹو نے سوشلزم کو سیاست نہیں بلکہ اپنی معیشت قرار دیا۔ بنیادی دستاویزات اور پارٹی پروگرام میں انہوں نے اسکی مدلل وضاحت کی۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ داری وہ نہیں ہے، جو یورپ اور دیگر سرمایہ دار ممالک میں ہے۔ وہاں کی سرمایہ داری جمہوریت اور شہری آزادیوں کی حامی ہے جبکہ پاکستان میں سرمایہ داری کے نام پر صرف 22 خاندان سرمایہ لوٹ رہے ہیں اور وہ عوام کے جمہوری حقوق کے مخالف اور آمریت نواز ہیں ۔

 وہ اپنے کارخانوں کو گنجائش کے مطابق نہیں چلاتے اور نہ ہی مزید صنعت کاری ہونے دیتے ہیں ۔ وہ صنعتوں کے نام پر ریاستی سرمایہ قرضوں کے نام پر ہڑپ کرتے ہیں۔ انکی وجہ سے محنت کشوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا نہیں ہو رہے اور ملک کی اکثریتی دیہی آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے ۔ بنیادی دستاویزات میں نجی سرمایہ کاری کی مخالفت بھی نہیں کی گئی بلکہ یہ لکھا گیا کہ نجی سرمایہ کاری کی اجازت محض قابلیت، ہر مندی اور جائز نفع رسانی کے اصولوں پر ہو گی۔ نہ کہ بڑے خاندانوں کی سرپرستی اور نوکر شاہی کی ناجائز دھڑے بندیوں کی بنا پر۔

 نجی سرمایہ کاری اس حد تک نفع اندوز ہو سکتی ہے جبکہ محنت کش طبقہ اسکی نفع رسانی میں برابر کا شریک ہو۔ شہید بھٹو سوشلزم کے حامی تھے لیکن انکا کہنا تھا کہ سوشلزم محض ایک آرڈر یا آمریت سے نافذ نہیں ہوتا۔ غیرطبقاتی اور سوشلسٹ معاشرے کے قیام اور سرمایہ دارانہ استحصال سے نجات کیلئے انسان کو تاریخی مرحلوں سے گزرنا ہے۔ یہ سفر عوام دوست سیاسی پروگرام کے تحت جمہوریت سے ہی طے ہو سکے گا۔

ایک اور بڑا کارنامہ شہید بھٹو کا یہ ہے کہ انہوں نے 1973ء کے دستور کے ذریعہ پاکستان کو نہ صرف وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام حکومت دیا بلکہ وفاقی اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دیکر انکا احساس محرومی ختم کیا ۔ شہید بھٹو نے پاکستان کو غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی دی ، جس کی وضاحت انہوں نے اپنی کتاب ' آزادی موہوم ' ( Myth of Independence) میں کی ۔ وہ پاکستان کو امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے مخالف تھے اور اسے چین کے قریب لانے کی وکالت کرتے رہے لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین سے تعلقات میں بھی پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھا جائے ۔

انہوں نے یہ کہہ کر ہر بحران کا تاریخی طور پر ایک آزمودہ حل بتا دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ ہر بحران میں عوام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ یہ بھٹو ازم ہے۔ اسکے علاوہ کوئی اور نظریہ کارگر نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کہ شہید بھٹو کے فلسفے اور وژن کے برعکس کیا گیا ۔ عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کو جھونک کر کبھی فوجی حکومتیں قائم کی گئیں اور کبھی نسلی ، لسانی ، علاقائی ، مذہبی اور نام نہاد سیاسی انتہا پسندی کو فروغ دے کر پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔ آج ملک پھر اسی شیطانی بھنور میں پھنسا ہوا ہے ، جس کی نشاندہی شہید بھٹو نے اپنی کتاب '’اگر مجھے قتل کیا گیا '‘ میں کی تھی ۔ 

شہید بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے شہید بھٹو کے سیاسی فلسفے پر عمل کیا اور اپنی جان قربان کر دی اور اب بلاول بھٹو زرداری اس فلسفے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ شہید بھٹو کے الفاظ میں بلاول بھٹو عوام کیساتھ روابط قائم کرکے اور ان کی آرزؤوں اور تمناؤں کیساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرکے آگے بڑھ رہے ہیں ۔

 شہید بھٹو آج بھی زندہ ہیں اور رہنمائی کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کیا ، تاریخ کے ہاتھوں نہیں ۔ انکے سیاسی فلسفے کو تاریخ نے بھی درست ثابت کیا ہے ۔آج کے حالات میں پھر شہید بھٹو سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

(صاحبِ تحریرصوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ ہیں)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔