فیکٹ چیک: لاہور پولیس نے ایک ہی دن میں ”ریاست مخالف“ مواد پر پیکا کے تحت 23 مقدمات درج کیے

کچھ ایف آئی آرز میں فیس بک اکاؤنٹس کا ذکر ہے جن پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے متعلق مبینہ طور پر ہتک آمیز مواد پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ لاہور پولیس نے حیران کن طور پر صرف 24 گھنٹوں میں پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت 23 مقدمات درج کیے۔

دعویٰ سچ ہے۔

دعویٰ

25 اپریل کو X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک اکاؤنٹ نے لکھا کہ ”لاہور پولیس کا جعلی مواد کے خلاف کریک ڈاؤن، صرف 24 گھنٹوں میں پیکا کے تحت ان افراد کے خلاف 23 مقدمات درج کیے گئے جو سیاستدانوں اور اداروں کو نشانہ بنانے والی جعلی اور ڈیپ فیک ویڈیوز پھیلا رہے تھے۔“

فیکٹ چیک: لاہور پولیس نے ایک ہی دن میں ”ریاست مخالف“ مواد پر پیکا کے تحت 23 مقدمات درج کیے

ایک اور صارف نے پوسٹ کیا: ”لاہور: ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کےخلاف پیکا ایکٹ کے تحت 23 مقدمات درج۔“

فیکٹ چیک: لاہور پولیس نے ایک ہی دن میں ”ریاست مخالف“ مواد پر پیکا کے تحت 23 مقدمات درج کیے

حقیقت

لاہور پولیس نے واقعی 24 گھنٹوں کے اندر غیر معمولی طور پر 23 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں ان افراد پر سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان آرمی، ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خلاف مبینہ ”نفرت انگیز مواد“ پھیلانے کا الزام ہے۔

ایف آئی آرز میں کیا ہے؟

جیو فیکٹ چیک نے 22 اپریل کو لاہور میں درج کی گئی تمام 23 ایف آئی آرز کا جائزہ لیا۔

ایف آئی آرز مختلف پولیس اسٹیشنز میں درج کی گئیں جن کے علاقے درج ذیل ہیں: فیکٹری ایریا، غازی آباد، گلشن اقبال، ہنجروال، مغل پورہ، نصیر آباد، نواں کوٹ، پرانی انارکلی، رائے ونڈ، ستو کتلہ، شاد باغ، شفیق آباد، شاہدرہ، ڈیفنس ایریا سی، ہر بنس پورہ، نشتر کالونی، لیاقت آباد، گلبرگ، نارتھ کینٹ، گجر پورہ، نولکھا، اسلام پورہ اور ساندہ۔

تمام ایف آئی آرز پرائیویٹ شہریوں نے درج کرائیں، جنہوں نے اپنے آپ کو یا تو تاجر، کسان، کاروباری شخص یا پراپرٹی ڈیلر قرار دیا۔

23 ایف آئی آرز میں سےبیشتر یعنی 12 میں ایک جیسی تحریر شامل ہے، جس میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر الزام لگایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے پاکستان کے ایک سینئر فوجی افسر کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے تخلیق شدہ تصاویر تیار کیں اور شیئر کیں۔

تمام 12 ایف آئی آرز میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شکایت کنندہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ 22 اپریل کو ایک X اکاونٹ پر ایک سینئر فوجی افسر کی تصویر دیکھی، جس میں ”غیر اخلاقی اور غیر قانونی“ پوسٹ کے ذریعے عوام الناس کی منفی ذہن سازی کی گئی ہے اور ان کے ذریعے عوام میں ”انتشار اور بے اعتمادی“ پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایکس (X) 17فروری 2024 سے پاکستان میں باضابطہ طور پر بلاک ہے۔

کچھ ایف آئی آرز میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ فیس بک اکاؤنٹس نے وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی تصاویر اور ویڈیوز کو ایڈیٹ کر کے نازیبا ویڈیو بنا کر شیئر کیا ہے، ایک ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک صارف نے مبینہ طور پر وزیرِاعلیٰ کو نشانہ بناتے ہوئے ”طنزیہ ویڈیو“ شیئر کی۔

ایک اور ایف آئی آر میں ایک پرائیویٹ واٹس ایپ گروپ کا ذکر ہے۔

شکایت کے مطابق، مدعی نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر زرعی ادویات اور سامان وغیرہ کی فروخت کےلیے ایک واٹس ایپ گروپ بنا رکھا تھا، جس میں مورخہ 8 اپریل کو ایک پوسٹ مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے کسانوں کو زرعی آلات کی خریداری کےلیے سبسڈی دینے کا اشتہار سینڈ کیا، بعد میں دیکھا کہ گروپ کے ایک ممبر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اشتہار پر انتہائی ”غلیظ“ کمنٹس کرتے ہوئے اس کے ساتھ میسج کیے، جس کے نتیجے میں ایف آئی آر درج ہوئی۔

الزامات کیا ہیں؟

تمام 23 ایف آئی آرز میں پیکا قانون کے سیکشن 11 اور 20 کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس سال جنوری میں پارلیمنٹ نے سائبر کرائم قانون میں ترمیم کی۔ دیگر تبدیلیوں کے ساتھ، اس نے مدعی کی تعریف کو وسیع کیا، اب کسی بھی فرد (نہ کہ صرف براہ راست متاثرہ) کو شکایت درج کرانے کی اجازت دیتا ہے اگر ان کے پاس یہ ”یقین کرنے کی معقول وجہ“ ہو کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے۔

دفعہ 11 کا تعلق نفرت انگیز تقریر سے ہے،  یہ کسی بھی الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے ایسی معلومات کے پھیلاؤ کو جرم قرار دیتا ہے جو دیگر چیزوں کے علاوہ بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت کو فروغ دیتی ہے،  اس کی سزا 7 سال تک قید، جرمانہ، یا دونوں ہو سکتی ہے۔

سیکشن 20 کسی عام شخص کی عزت کے خلاف جرائم سے متعلق ہے،  یہ کسی بھی شخص کو 3 سال تک قید کی سزا دیتا ہے جو جان بوجھ کر اور عوامی طور پر جھوٹی معلومات پھیلائے جو کسی شخص کی شہرت، پرائیویسی، یا ذہنی سکون کو نقصان پہنچائے۔

فیصلہ: لاہور پولیس نے 22 اپریل 2025 کو پیکا کے تحت 24 گھنٹوں کے اندر 23 ایف آئی آرز درج کیں۔

ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ 

اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔