Geo News
Geo News

پاکستان
16 نومبر ، 2013

لیاری میں جرائم کا آغاز 1950میں افشانی گلی سے ہوا، رپورٹ

لیاری میں جرائم کا آغاز 1950میں افشانی گلی سے ہوا، رپورٹ

کراچی …کراچی میں لیاری کے مختلف علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے گینگ وار کے گروہ آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔کراچی کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے بلوچوں کی قدیم آبادی لیاری لگ بھگ 15 سال بدامنی کا شکار ہے۔پچاس پچپن سال قبل منشیات فروشی اور دادہ گیری کی شروعات لیاری کے علاقے ریکسر لائن کی افشانی گلی ہوئیں۔1950 کی دہائی میں اٹکل اور بیکل نامی دو کردار یہاں منشیات فروشی میں ملوث رہے۔ ان کے بعد کالا ناگ، حاجی لال محمد ، شیرو، حنیف باجولا، آموک، حاجی لالو، اللہ بخش عرف کالا ناگ، حسین ایرانی اور پھر اقبال بلوچ عرف بابو ڈکیت نے اپنے اپنے انداز میں اس دھندے کو آگے بڑھایا۔ 1990 کی دہائی میں بابو ڈکیت کی گرفتاری کے بعد حاجی لالو اور اس کے بیٹے ارشد پپو نے اس علاقے میں جڑیں مضبوط کرنا شروع کیں۔اقبال ڈکیت کی اسیری کے دوران یہی کام ماضی کے سماجی کارکن دادل بلوچ کے بیٹے عبدالرحمن بلوچ نے سنبھالا۔ وہ بعد میں رحمن ڈکیت کے نام سے مشہور ہوا۔ لیاری کے ایک ٹرانسپورٹر فیضو ماما کو ارشد پپو نے اغوا کیا۔ بھاری تاوان وصول کرنے کے باوجود اسے قتل کئے جانے پر رحمان ڈکیت اور ارشد پپو کے مابین گینگ وار شروع ہوئی۔ یوں مقتول فیضو ماما کے بیٹے عذیر جان بلوچ نے بھی باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے رحمان ڈکیت کا ساتھ دیا۔ رحمان ڈکیت کو سی آئی ڈی پولیس نے تین سال قبل مقابلے میں مار دیا تو ڈنڈے اور گولی کے زور پر لیاری میں امن قائم کرنے کے لئے بنائی گئی امن کمیٹی کی کمان عذیر جان بلوچ نے سنبھال لی۔ رواں سال 17 مارچ کو ارشد پپو اور دو ساتھیوں کو گینگ وار نے پولیس کی مدد سے ڈیفنس سے اغواء کرکے لیاری میں بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا۔ اس مقدمے میں کئی ملزمان گرفتار جبکہ عذیر جان بلوچ اور ساتھی مفرور ہیں۔ پولیس کے مطابق اپنے ساتھیوں کے تحفظ میں ناکامی پر گینگ وار کے بابا لاڈلا گروپ نے 18 ستمبر کو عذیر بلوچ کے دست راست ظفر بلوچ کو قتل کردیا۔ جس کے بعد لیاری کے دشمنوں سے سالہہ سال سے لڑائی لڑنے والوں نے آپس میں ہی جنگ شروع کردی جو تین ماہ سے جاری ہے۔ علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے عذیزبلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلا کے کارندے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں رینجرز اور پولیس کا کردار انتہائی مشکوک ہے۔ ان فورسز کے بیشتر افسران دونوں مسلح گروپوں کے خلاف کوئی سنگین یا حتمی کارروائی کرنے کی بجائے گینگسٹرز کے مابین سیز فائر اور صلح صفائی کرانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

مزید خبریں :