Geo News
Geo News

پاکستان
07 دسمبر ، 2013

نوجوانوں کیلئے 100 ارب روپے کی کاروباری قرضہ اسکیم کا افتتاح

نوجوانوں کیلئے 100 ارب روپے کی کاروباری قرضہ اسکیم کا افتتاح

اسلام آباد…وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے 100 ارب روپے کی کاروباری قرضہ اسکیم کا افتتاح کردیا۔ چاروں صوبوں، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر میں کل سے فارم دستیاب ہوں گے۔ قرضہ اسکیم کی چیئرپرسن مریم نواز کہتی ہیں کہ قرض میرٹ پر دیا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت نے بجلی بحران اور کراچی آپریشن ہمارے لیے چھوڑ دیا۔ وزیراعظم کی نوجوانوں کے لیے قرضہ اسکیم کی افتتاحی تقریب اسلام آباد میں ہوئی۔ تقریب میں مریم نواز کا کہناتھاکہ اسکیم سے نوجوانوں کو جہاں اپنامستقبل سنوارنے کا موقع ملے گا وہیں ملکی معیشت کی بحالی میں بھی ان کا اہم کردار ہو گا۔ کاروبار کیلئے 56شعبوں کی نشاندہی کردی گئی ہے، اس کے علاوہ بھی کاروبار کرنے کیلئے قرض مل سکتاہے، نوجوان اپنے کاروبار سے کم از کم 15افراد کو روزگار مہیا کریں گے، قرضے کی شفافیت کی نگرانی خود وزیراعظم کریں گے، قرضے میرٹ پر دیے جائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ انتخابی وعدوں پرعمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ملک میں بے روزگاری دیکھ کر پریشان ہوتا تھا، نوجوانوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ نوازشریف نے کہا کہ ایک کمپنی کو اربوں روپے قرضہ تو دیا جاتا لیکن نوجوان کو نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی گزشتہ حکومت نے بھی نجکاری کی اور اب بھی جو ادارے نقصان میں ہیں انہیں نجی تحویل میں دیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بڑے اداروں کو نیشنلائزکیا گیا جس نے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کراچی میں 5یا 10سال پہلے کیوں آپریشن نہیں کیا گیا، یہ ان کی حکومت کے کھاتے ہی میں کیوں ڈالا گیا، گزشتہ حکومتوں نے بجلی کے کارخانے کیوں نہیں لگائے، پاکستان نے دنیا میں اگر نام کمایا ہے تو صرف کرپشن میں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ امداد نہیں، پاکستانی منصوعات کو امریکی منڈیوں تک رسائی دیں، لوڈشیڈنگ تین چار سال تک ختم نہیں ہوگی، حوصلہ رکھو، لوڈشیڈنگ کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے شکوہ کیا آلو، پیاز، ٹماٹر کی قیمتیں بڑھیں تو سب نے شور مچایا جب کم ہوئیں تو کوئی نہیں بولا، میڈیا حکومت کو کام کرنے کاموقع دے اوراصلاح کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ملک کا نظام ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ صرف ان ہی کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں :