22 مارچ ، 2014
کراچی…تربت اور کوئٹہ سے کراچی آنے والی بسوں کے حادثے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں، مسافروں کے ساتھ ان بسوں میں ایسا اور کیا سامان جاتا ہے جو المناک حادثات سبب بنتا ہے۔کراچی کے بس اڈیسے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں کو بسیں روانہ ہوتی ہیں۔ ٹرانسپورٹر ز فی مسافر ڈیڑھ سے دو ہزار روپے کرایہ وصول کرتے ہیں لیکن ان بسوں میں مسافر ہی نہیں، بلکہ ایران سے اسمگل شدہ پٹرول اور ڈیزل بھی لایا جاتا ہے۔ یہاں پر قانون کے محافظ یا تو اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں، یا شاید بس مالکان سے، ان کا مک مکا ہوجاتا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی بس میں بھی پٹرول اور ڈیزل ڈرم لدے ہوئے تھے، جو اتنی قیامت خیز تباہی کا باعث بنے۔ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی، حادثے کے بعد جب جیو نیوز کی ٹیم بس اڈے پر پہنچی تو وہاں آنے والی بسوں میں بھی پٹرول اور ڈیزل کے ڈرم لدے ہوئے تھے جبکہ بس کے اندر ایمرجنسی کی صورت میں کوئی متبادل دروازہ بھی نہیں۔ حب روڈ ٹریفک حادثے میں درجنوں افراد اپنی جان سے گئے، لیکن افسوس اس سانحے کے بعد بھی کھلے عام پٹرول اور ڈیزل کے یہ ڈرم اسمگل ہوکر آرہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔