17 ستمبر ، 2014
اسلام آباد........سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران رحمن ملک کو آف لوڈ کرنے کا تذکرہ ہوا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر ادارے صحیح کام کریں تو عوام کو یہ کام نہ کرنا پڑے۔سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران دو روز قبل رحمان ملک کو جہاز سے آف لوڈ کرنے کاتذکرہ چھڑ گیا، جس پر ججز بھی ریمارکس دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اگر ادارے صحیح کام کریں تو عوام کو یہ کام نہ کرنا پڑے، ویڈیو دیکھ کر اطمینان بھی ہوا اور بے اطمینانی بھی، اگر جہازکادروازہ بند ہوجائے توچاہےصدر بھی آئےدروازہ بندرہناچاہیئے۔وہ عرصے سےجہاز میں سفر کررہے ہیں، آج تک دیر نہیں ہوئی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ یہ ایک مسئلہ ہے،آخر مسافروں کو قانون نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اگر سیاسی تحرک ہوگا تو حکومت کا ہر محکمہ چلے گا، دو روز پہلے جہاز کی روانگی میں تاخیر پر مسافروں نے مبینہ طورپر تاخیر کا سبب بننے والے سینیٹر رحمان ملک کو جہاز میں داخلے سے روک دیا جبکہ ایک اور رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کو جہاز سے اترنے پر مجبور کردیا تھا اور اس واقعے کی ویڈیو نے دن بھر ہلچل مچائے رکھی ۔