Geo News
Geo News

پاکستان
20 دسمبر ، 2014

دہشتگرد عثمان آرمی میڈیکل کورمیں بطور نرسنگ اسسٹنٹ کام کرتا رہا

دہشتگرد عثمان آرمی میڈیکل کورمیں بطور نرسنگ اسسٹنٹ کام کرتا رہا

کراچی........جی ایچ کیو اور پرویز مشرف حملہ کیس میں سزائے موت پانے والے خطرناک دہشت گرد عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان اورارشد محمود کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔ آرمی چیف نے جن 6 دہشت گروں کی موت کے پروانوں پر دستخط کیے تھے ، ان میں یہ دونوں بھی شامل تھے ۔ عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان، یہ مرکزی ملزم تھا اکتوبر 2009میں جی ایچ کیو پر حملے کا۔ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان 1999 میں حرکت الجہاد الاسلامی میں شامل ہوا اور دو بار افغانستان گیا، نائن الیون کے بعد وہ زخمی حالت میں افغانستان سے واپس پاکستان آیا تھا۔ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان آرمی میڈیکل کورمیں بطور نرسنگ اسسٹنٹ بھرتی ہوا اور سی ایم ایچ راول پنڈی میں کام کرتا رہا، تاہم اس عرصے میں اس کے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے بھی رہے ۔ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان نے 2005 میں آرمی میڈیکل کور میں ملازمت چھوڑ دی اور جیش محمد میں شامل ہو گیا۔2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد وہ وزیرستان چلا گیا جہاں وہ تحریک طالبان امجد فاروق گروپ کے کمانڈرز اسلم یاسین اور الیاس کشمیر ی سے ملا اور پھر میرانشاہ میں اس اجلاس میں شریک ہوا جس میں جی ایچ کیو پر حملے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ ڈاکٹر عثمان 10 اکتوبر 2009 کو 10 ساتھیوں کے ساتھ جی ایچ کیو پر حملہ آور ہوا اور اسی روز گرفتار ہو گیا ۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عثمان نے تسلیم کیا کہ اس نے جی ایچ کیو پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، نقشے گوگل سے لیے اور اسلحہ جھنگ سے آیا تھا۔ اگست 2011 میں فوجی عدالت نے ڈاکٹر عثمان کو سزائے موت سنائی، 7 دسمبر کو اس کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی تھی۔ ایک اور دہشت گرد نائیک ارشد محمود کا تعلق پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈو گروپ سے تھا، وہ پرویز مشرف پر حملے کا منصوبہ ساز تھا، کورٹ مارشل کے بعد فوجی عدالت نے نائیک ارشد محمود کو مئی 2005 میں سزائے موت سنائی تھی ۔ مشرف حملہ کیس میں ہی سزائے موت پانے والے دہشت گرد زبیر احمد ولد اللہ دتہ کا تعلق لودھراں سے ہے اور اسے ملتان سے2004 میں گرفتار کیا گیا ۔دہشت گرد اخلاص احمد ولد اخلاق احمد کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے پونچھ سے ہے اورا سے 2005 میں اٹک سے گرفتار کیا گیا تھا ۔سزائے موت پانے والے راشد محمود قریشی ولد محمد انور قریشی کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور وہ پشاور کا رہائشی ہے ،راشد محمود قریشی کو 2006 میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ آرمی چیف نے جن 6 دہشت گردوں کی موت کے پروانے پر دستخط کیے ہیں ، ان میں سے غلام سرور بھٹی بھی شامل ہے جس کا تعلق کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین سے تھا۔

مزید خبریں :