Advertisement

کھیل
time icon 28 فروری ، 2021

کوئٹہ ایک مرتبہ مومینٹم حاصل کر لے پھر اسے ہرانا مشکل ہو جائے گا: ڈوپلیسی

فوٹو: فائل

پی ایس ایل ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل جنوبی افریقی بلے باز فاف ڈوپلیسی کا کہنا ہے کہ ایک بار گلیڈی ایٹرز کی ٹیم مومینٹم حاصل کرلے پھر پاکستان سپر لیگ میں اسے ہرانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

جیو نیوز کو خصوصی انٹرویو میں فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ ابتدائی میچز میں کوئٹہ کی ٹیم اس پوزیشن سے میچ ہاری جہاں سے اسے میچز جیتنا چاہیے تھا، کہیں کنڈیشن نے ساتھ نہ دیا تو کہیں حریف نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، ڈیتھ اوورز کی بولنگ میں کچھ کمی رہ گئی تھی، امید ہے گلیڈی ایٹرز غلطیوں سے سبق سیکھیں گے اور بھرپور قوت کے ساتھ کم بیک کریں گے۔

انہوں نے گلیڈی ایٹرز کے فینز سے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور تحمل رکھیں، ٹیم جلد اچھے نتائج دے گی، ایک اچھی کارکردگی کے بعد مومینٹم حاصل ہو جائے گا اور پھر اس مومینٹم کو برقرار رکھیں گے، تین شکست کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گلیڈی ایٹرز کے لیے ٹورنامنٹ ختم ہو گیا۔


فاف ڈوپلیسی نے کوئٹہ کی کٹ کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں اس کٹ کا رنگ پسند آیا ہے اور اس ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے وہ کافی اچھا محسوس کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں جو ٹیم ٹاس جیت رہی ہے وہی میچ بھی جیت رہی ہے اور کنڈیشنز کی وجہ سے ایسا یقینی بھی ہے لیکن ناکامیوں کی ذمہ داری ٹاس پر نہیں ڈال سکتے، کون جانے اگر ٹاس جیت کر کچھ اور نتیجہ ہوتا یا نہیں۔

چھتیس سالہ جنوبی افریقی کرکٹر نومبر میں پی ایس ایل پلے آف کے لیے پشاور زلمی کے ساتھ کراچی آئے، پھر جنوبی افریقی ٹیم کے ساتھ دورہ پاکستان کیا اور اب ایک بار پھر پاکستان سپر لیگ کے لیے انہوں نے پاکستان کا رخ کیا ہے، وہ 2017 میں پاکستان آنے والی ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان بھی تھے۔

پاکستان میں سکیورٹی انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے جنوبی افریقا کے سابق کپتان نے کہا کہ اب سکیورٹی کا مسئلہ ان کے ذہن میں ہے ہی نہیں، کسی بھی موقع پر پاکستان میں غیر محفوظ محسوس نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان میں قیام اچھا رہا جس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ چند ماہ میں تیسری بار پاکستان آیا ہوں، یہاں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔

فاف ڈو پلیسی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں جلد اور ٹیمیں اور ہر فارمیٹ کی کرکٹ کھیلنے کے لیے آئیں گی اور بہت جلد یہاں ایک آئی سی سی ایونٹ دیکھنے کو بھی ملے۔

پی ایس ایل میں نوجوان ٹیلنٹ کی تعریف کرتے ہوئے تجربہ کار کرکٹر کا کہنا تھا کہ جہاں بیٹنگ میں جارح مزاج اور شاندار ٹیلنٹ دیکھنے کو مل رہا ہے وہیں فاسٹ بولنگ میں بھی حیران کن کھلاڑی سامنے آرہے ہیں، ہر ٹیم کے پاس ایسے پلیئرز موجود ہیں جو ایک 140 کی رفتار سے بولنگ کراتے ہیں جو بہت اچھا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ درست سمت جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 10 سال آئی پی ایل کھیل کر انہیں یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ لیگز نوجوان ٹیلنٹ کے لیے کس قدر مفید ہو سکتی ہے کیوں کہ ان لیگز میں نوجوان کرکٹرز کو دنیا کے ٹاپ پلیئرز کے تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے، پی ایس ایل میں بھی نوجوانوں کے پاس موقع ہے کہ وہ کمر کس لیں اور ٹاپ پلیئرز کے ساتھ رہ کر اپنی صلاحیتوں کو بہتر کریں۔

ان کا کہنا تھا تصور کریں کہ ایک نوجوان بیٹسمین، دور حاضر کے بہترین بولر ڈیل اسٹین کا سامنا کرے اور ڈٹ کر مقابلہ کرے تو اس کے اعتماد کو کتنا فائدہ ہو گا؟ اور پھر جب وہ نوجوان انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے جائے گا تو وہ بلاخوف آزادی کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

فاف ڈو پلیسی نے کہا کہ کوئٹہ میں صائم ایوب، اعظم خان اور حسنین جیسے نوجوان پلیئرز نے ان کو متاثر کیا ہے۔

جنوبی افریقا کے سابق کپتان اور گلیڈی ایٹرز بیٹسمین نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں صرف چھکوں کی برسات ضروری نہیں بلکہ ایسے کرکٹرز زیادہ کارآمد ہیں جو وکٹ پر قیام کر کے مکمل تکنیک کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

انہوں نے بابر اعظم اور محمد حفیظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے کرکٹرز ہیں جو پاور ہٹر کے طور پر نہیں تسلیم کیے جاتے لیکن پھر بھی ان میں ایسی صلاحیتیں ہیں کہ وہ 10 میں سے سات مرتبہ اپنی ٹیم کے لیے کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، یہ کھلاڑی ان کھلاڑیوں سے بہتر ہیں جو ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جنوبی افریقی کرکٹر کا کہنا تھا اسٹرائیک ریٹ ضروری ہے لیکن اسٹرائیک ریٹ کو برقرار رکھنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ڈاٹ بالز کی تعداد کم رکھیں اور اسٹرائیک تسلسل کے ساتھ روٹیٹ کریں۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم ایک باصلاحیت بلے بلے باز ہیں اور ان میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو آنے والے وقتوں میں بابر اعظم کو ویرات کوہلی، کین ولیمسن یا پھر اسٹیو اسمتھ کے ہم پلہ کر سکتی ہے لیکن ابھی بابر اور ان میں فرق یہ ہے کہ بابر نوجوان ہیں جبکہ دیگر پلیئرز گزشتہ کئی سالوں سے تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے آ رہے ہیں، امید ہے کہ آنے والے چند سالوں میں بابر اعظم اپنی کارکردگی سے اس ہی مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں آج کوہلی یا دیگر ہیں۔

فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ برصغیر کی ٹیمیں باہر جا کر اور باہر کی ٹیمیں برصغیر آکر بیٹنگ میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے، اس کی بڑی وجہ وکٹیں نہیں بلکہ بیٹنگ کی صلاحیتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقی ٹیم جب حال ہی میں ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان آئی تھی تو وکٹیں بری نہیں تھیں لیکن ٹیم پھر بھی ناکام ہوئی جس کی بڑی وجہ بیٹنگ لائن کا درکار انداز میں پرفارم نہ کر پانا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی وجہ سے بھی بیٹنگ کے انداز میں فرق آیا ہے اور اب بیٹسمین اس انداز میں نہیں کھیلتے جس انداز میں پہلے کھیلا کرتے تھے اور ان کی دفاعی تکنیک متاثر ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بیٹسمین ان کنڈیشنز میں دفاع نہیں کر سکتے جس کنڈیشنز سے انہیں ہم آہنگی نہ ہو۔

Advertisement

@geonews_sport

Advertisement