Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
03 نومبر ، 2017

نوازشریف احتساب عدالت میں پیش، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر سماعت ملتوی


اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کے لیے نوازشریف عدالت میں پیش ہوئے تاہم آج کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔

شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر احتساب عدالت میں 8 سماعتیں ہوچکی ہیں جن میں نوازشریف 2 مرتبہ جب کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر 4 مرتبہ پیش ہوئے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے جس کےبعد نوازشریف کل لندن سے وطن واپس پہنچے جہاں نیب ٹیم نے ان سے پنجاب ہاؤس میں عدالتی سمن کی تعمیل کرائی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف تین ریفرنسز کی سماعت جج محمد بشیر کررہے ہیں۔

آج سماعت کے آغاز پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کی کاپی موصول نہ ہونے پر سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ لیا گیا جس کے تھوڑی دیر بعد احتساب عدالت کے جج نے سماعت بغیر کارروائی کے منگل 7 نومبر تک ملتوی کردی۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی ہائیکورٹ میں درخواست ہے اور عدالت عالیہ کے فیصلے پر اہم قانونی نکات ہیں جن پر عدالت کی معاونت کرنی ہے لہٰذا وقت دیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے تک دلائل نہیں سن سکتے۔

عدالت نے آج کیس میں ایس ای سی پی کے 2 گواہان کو طلب کیا تھا تاہم ان کی طلبی کا حکم نامہ بھی معطل کردیا گیا اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے معطل کی جانے والوں درخواستوں پر فیصلہ ہوگا۔

عدالت میں حاضری یقینی بنانے کے لیے نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ریفرنسز میں 50،50 لاکھ کے مچلکے جمع کرائے گئے، ایون فیلڈ پراپرٹیز میں پہلے ہی مچلکے جمع کرائے جاچکے تھے۔

سماعت ملتوی ہونے کے بعد نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر فوری طور پر عدالت سے واپس روانہ ہوگئے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے احتساب عدالت کے 19 اکتوبر کے جوائنٹ ٹرائل چلانے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا ہے۔

شریف خاندان کی عدالت آمد

آج عدالت میں پیشی کے لیے کیپٹن (ر) صفدر پہلے ہی عدالت پہنچ چکے تھے، نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک ساتھ عدالت پہنچے جب کہ نیب کی ٹیم اور سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت پہنچے۔

کیس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد نوازشریف کی پہلی پیشی کے موقع پر (ن) لیگ کے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھی۔

سابق وزیراعظم کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچنے پر کارکنان نے نوازشریف کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔

پارٹی رہنما عدالت کے باہر موجود

خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب، راجہ ظفر الحق، پرویز رشید، طارق فاطمی، طلال چوہدری، محسن رانجھا اور آصف کرمانی سمیت دیگر بھی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھے۔

نوازشریف کے ساتھ آنے والے بعض لوگوں کو عدالت کے اندر جانے سے روک لیا گیا۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات

نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف لندن پراپرٹیز، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنسز دائر کیے ہیں جن میں فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

Advertisement