Geo News
Geo News

Time 02 دسمبر ، 2017
کھیل

گریگ چیپل تنازع کے دوران عمران خان نے ہمت بندھائی: گنگولی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان (دائیں) اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ساروو گنگولی (بائیں)—۔

روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچز کے دوران مداحوں کا جوش و جذبہ تو دیکھنے والا ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی دونوں جانب سے طنزو تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

لیکن یہ بھی کھیل کی ایک خوبصورتی ہے کہ دونوں طرف کے کھلاڑی اکثر و بیشتر ایک دوسرے کی ہمت بندھانے کا بھی باعث بنے۔

ایسا ہی ایک واقعہ سابق بھارتی کپتان ساروو گنگولی نے بھی شیئر کیا اور بتایا کہ کس طرح کوچ گریگ چیپل کے ساتھ ہونے والے ان کے تنازع کے دوران سابق پاکستانی کپتان عمران خان کے کہے گئے چند الفاظ نے ان کی ہمت بڑھائی۔

واضح رہے کہ 2005 میں سابق بھارتی گریگ چیپل نے اُس وقت کے کپتان گنگولی کے خلاف بھارتی کرکٹ بورڈ کو ایک ای میل بھیجی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ گنگولی 2002 سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے ، اس لیے ان کی جگہ کوئی دوسرا کپتان مقرر کیا جانا چاہیے اور انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

کپتان اور کوچ کے درمیان اس تنازع نے کھلاڑیوں میں بھی تفریق پیدا کر دی تھی اور گنگولی اور گریگ چیپل کا یہ تنازع بھارت میں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران بن گیا تھا، جس کے بعد گنگولی کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ہندوسٹان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گریگ چیپل کے ساتھ ہونے والے تنازع کے  حوالے سے بات کرتے ہوئے گنگولی نے کہا، 'یہ 2006 کی بات ہے، میں 6 سال تک ٹیم کا کپتان رہا اور پھر اچانک مجھ سے سب کچھ چھین لیا گیا'۔

انہوں نے بتایا، 'وہ بہت مشکل دور تھا، لیکن اس نے مجھے ایک بہتر انسان بننے میں مدد فراہم کی، اسی عرصے کے دوران ایک مرتبہ میری عمران خان سے لاہور میں ملاقات ہوئی، وہ بھارتی کرکٹ کو بہت قریب سے دیکھ رہے تھے، میرے عمران خان سے بہت اچھے تعلقات ہیں، انہوں نے مجھے کچھ ایسا کہا، جسے میں اپنی زندگی میں ہمیشہ یاد رکھتا ہوں'۔

گنگولی کے مطابق عمران خان نے کہا، 'جب آپ اونچا اڑیں اور آپ کو گہرے بادل نظر آئیں تو آپ کو مزید اونچا اڑنے کے لیے راستہ مل جاتا ہے'۔

گنگولی نے بتایا، 'میں نے ان الفاظ کو اُس مشکل وقت میں یاد رکھا'۔

اس عرصے کے دوران ایک واقعہ شیئر کرتے ہوئے گنگولی نے بتایا، 'میں بہت غصے میں تھا کہ مجھے ٹیم میں منتخب نہیں کیا جارہا، میں نے غصے میں ایڈن گارڈنز میں دوڑنا شروع کردیا، میں اتنا بھاگا کہ میں نے 21 چکر لگا لیے، آخری چھٹے یا ساتویں چکر کے دوران میں شدید غصے میں تھا'۔

بعدازاں گنگولی فارم میں واپس آئے اور جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ سے کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران انہوں نے ناقابل شکست نصف سنچری بنائی، جس کے بعد ون ڈے میچز میں بھی ان کی شاندار واپسی ہوئی اور انہوں نے ناگ پور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 98 رنز بنائے۔

تاہم نومبر 2008 میں گنگولی نے ہر طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ گنگولی کی ہی قیادت میں بھارتی ٹیم کرکٹ ورلڈ کپ 2003 کے فائنل میں پہنچی تھی۔