Can't connect right now! retry

پاکستان
14 نومبر ، 2019

سروے: عوام کی اکثریت نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی حامی

 37 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ن لیگ کی قیادت مریم نواز کوکرنی چاہیئے،فوٹو:فائل

پاکستانی عوام کی اکثریت نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی حامی ہے، یہ بات گیلپ سروے میں سامنے آئی۔

عوامی آراء جاننے کے حوالے سے معروف ادارے گیلپ پاکستان کےسروے کے مطابق 53 فیصد لوگوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی حمایت کی ہے جب کہ 44 فیصد اس کے مخالف ہیں۔

40 فیصد لوگ نواز شریف کی غیر موجودگی میں پارٹی قیادت شہباز شریف کودینے کے حق میں ہیں جب کہ 37 فیصد کا خیال ہے کہ ن لیگ کی قیادت مریم نواز کوکرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے 4 ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی ہے۔

نواز شریف کی بیرون ملک روانگی اس بات سے مشروط ہے کہ اگر نواز شریف یا شہباز شریف 7 یا ساڑھے 7 ارب روپے کے پیشگی ازالہ بانڈ جمع کرادیتے ہیں تو وہ باہر جاسکتے ہیں اور اس کا دورانیہ 4 ہفتے ہوگا جو قابل توسیع ہے۔

تاہم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نکالنے کی مشروط اجازت کے فیصلے کو ن لیگ نے رد کرتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

نواز شریف کی خرابی صحت کا پس منظر

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی حراست میں میاں نوازشریف کی طبیعت 21 اکتوبر کو خراب ہوئی اور ان کے پلیٹیلیٹس میں اچانک غیر معمولی کمی واقع ہوئی، اسپتال منتقلی کے بعد ایک وقت میں ان کے  پلیٹیلیٹس 12 ہزار اور پھر خطرناک حد تک گرکر 2 ہزار تک رہ گئے تھے۔

نوازشریف کو پلیٹیلیٹس انتہائی کم ہونے کی وجہ سے کئی میگا یونٹس پلیٹیلیٹس لگائے گئے لیکن اس کے باوجود اُن کے پلیٹیلیٹس میں اضافہ اور کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

سابق وزیراعظم کی بیماری تشخیص ہوگئی ہے اور ان کو لاحق بیماری کا نام اکیوٹ آئی ٹی پی ہے، دوران علاج انہیں دل کا معمولی دورہ بھی پڑا جب کہ نواز شریف کو ہائی بلڈ پریشر، شوگراور گردوں کا مرض بھی لاحق ہے۔

اسی دوران نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی اور ساتھ ہی ایک ایک کروڑ کے 2 مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی طبی و انسانی ہمدردی کی بنیاد پر  29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں سابق وزیراعظم کی سزا 8 ہفتوں تک معطل کردی۔

خیال رہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سابق وزیراعظم کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سزا معطلی اور ضمانت کے بعد نواز شریف کو پہلے سروسز اسپتال سے شریف میڈیکل کمپلیکس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم بعد ازاں انہیں ان کی رہائش گاہ جاتی امرا منتقل کیاگیا جہاں عارضی آئی سی یو بھی قائم کیا گیا تھا اور اب انہیں علاج کے لیے لندن منتقل کرنے کی تیاریاں ہیں۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM