Can't connect right now! retry

دنیا
20 نومبر ، 2019

کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری، حریت پسندوں کی جائیدادیں ضبط

حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت نے مقبوضہ وادی میں سڑکوں اور سرکاری محکموں کے نام تبدیل کرنا شروع کردیے— فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، جھوٹے مقدمات میں 6 حریت پسندوں کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں جبکہ حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود مقبوضہ وادی میں سڑکوں اور سرکاری محکموں کے نام تبدیل کرنا شروع کردیے گئے ہیں۔

قابض بھارتی حکومت کے شٹ ڈاؤن سے مقبوضہ کشمیر میں تجارتی سرگرمیاں بدحالی کا شکار ہیں،5 اگست سے جاری پابندیوں کے باعث اب تک وادی میں 1 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے، مقبوضہ وادی میں 108 ویں روز بھی لاک ڈاؤن برقرار ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل شٹ ڈاؤن سے 1 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

تجارتی تنظیم نے بھارتی حکومت کیخلاف نقصانات پر مقدمہ کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

’شیرِکشمیر کرکٹ اسٹیڈیم اب سردار ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم کہلائے گا‘

دوسری جانب بھارتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جھوٹے مقدمات میں سید صلاح الدین سمیت 6 حریت پسندوں کی 7 جائیدادیں ضبط کرلی ہیں۔

علاوہ ازیں حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود حکمران جماعت بھارےی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مقبوضہ کشمیر میں سڑکوں اور سرکاری محکموں کے نام تبدیل کرنا شروع کردیے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے محکمہ پانی کا نام جل شکتی محکمہ کردیا گیا جبکہ چنانی ناشری ٹنل کا نیا نام ہندوتوا نظریے کے حامل شیاما پرساد مکھرجی کے نام پر کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شیرِکشمیر کرکٹ اسٹیڈیم کو اب سردار ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم کے نام سے پکارا جائے گا۔

کشمیر کی صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

مقبوضہ وادی میں 3 ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے جب کہ مریضوں کے لیے ادویات بھی ناپید ہوچکی ہیں، ریاستی جبر و تشدد کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM