Can't connect right now! retry

عمران فاروق قتل کیس: شمائلہ فاروق بیان ریکارڈ کراتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اپنا پہلا باضابطہ بیان ریکارڈ کرایا اور اس دوران وہ رو بھی پڑیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی جہاں شمائلہ عمران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

مقتول ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ فاروق اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے مجسٹریٹ کورٹ پہنچیں جہاں انہوں نے عمران فاروق قتل کیس میں پہلا باضابطہ بیان ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام بھی مجسٹریٹ کورٹ میں موجود تھے۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کہا اگر گواہ اردو میں بیان ریکارڈ کرانا چاہیں تو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے، جس پر شمائلہ عمران نے کہا کہ میں اردو میں ہی بیان ریکارڈ کرانا چاہتی ہوں۔

شمائلہ نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ میں نے تفتیش میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرایا، میرے شوہر کو 16 ستمبر 2010 کو قتل کیا گیا۔


انہوں نے بتایا کہ محسن علی سید اور کاشف خان کامران کو عمران فاروق سے ملتے ہوئے دیکھا، دونوں نے اپنا تعارف اے پی ایم ایس او کے رکن کی حیثیت سے کرایا تھا۔

ان کا کہنا تھا عمران فاروق کو شبہ تک نہیں تھا کہ یہ دونوں انھیں قتل کر سکتے ہیں، عمران فاروق کو سیکیورٹی پر خدشات تھے جس کا ذکر پولیس سے بھی کیا تھا۔

اہلیہ عمران فاروق نے بتایا کہ پولیس لاش کی شناخت کے لیے مجھے مردہ خانے لے کر گئی، میں نے مردہ خانے میں شوہر کی لاش کو شناخت کیا۔

شمائلہ عمران نے بتایا کہ وقوعہ کے روز دن 4 بجے عمران فاروق نے مجھے فون کال کی تو میں نے انہیں ڈبل روٹی لانے کا کہا، گھر واپسی میں تاخیر پر فون کیا تو ان کا فون بند ملا، سوچا کہ شوہر کو فون کر کے پوچھوں کہ وہ گھر کیسےآئیں گے، گھر کے باہر پولیس کھڑی ہے، پھر سوچا کہ اسٹیشن سے جا کر شوہر کو لے آؤں، دروازہ کھولا تو پولیس ہمارے گھر میں داخل ہو گئی۔

اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عمران فاروق کی اہلیہ آبدیدہ ہو گئیں جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ آپ نے حوصلے اور صبر سے اپنا بیان ریکارڈ کرانا ہے، آپ تسلی رکھیں، عدالت کو جو بتانا چاہتی ہیں ایک ایک لائن لکھواتی جائیں۔

عمران فاروق کی بیوہ نے بتایا میں نے نوٹس کیا کہ گھر کے باہر ایک زخمی شخص پڑا ہے، مجھے نہیں معلوم تھا کہ زخمی شخص میرا شوہر ہے، پولیس نے مجھےگھر سے دوسری جگہ منتقل کر دیا،ہمیں عمران کو دیکھنے نہیں دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں اپنے سسرال فون کرکے واقعے کے بارے میں بتایا، پولیس کی طرف سے بتایا گیا کہ میرا شوہر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہلاک ہو گیا تھا، پولیس نے بتایا کہ عمران فاروق پر دو لڑکوں نے چاقو سے حملہ کیا، عمران فاروق کو پاکستان میں دفن کیا گیا۔

شمائلہ عمران کا کہنا تھا اس قتل کو 9 سال ہو گئے ہیں، میری استدعا ہے کہ انصاف کیا جائے، میں نے خود کسی کو قتل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، میں گھر پر تھی جب یہ قتل ہوا، ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا گیا، بچوں سے ان کا باپ چھین لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمسایوں نے بتایا کہ عمران فاروق جب گھر کی سیڑھیوں کے قریب پہنچے تو2 لڑکوں نے سلام کیا، سلام کرنےکے بعد ایک لڑکے نے چاقو سے حملہ کیا اور دوسرے نے سر پر اینٹ ماری۔

اہلیہ عمران فاروق نے بتایا کہ میں نے پولیس کو بیانات ریکارڈ کرائے مگر یہ یاد نہیں کہ کتنے بیانات ریکارڈ کرائے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM