Can't connect right now! retry

کھیل
24 اپریل ، 2020

کورونا وائرس کے سبب کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کو قانونی قرار دینے پر غور

کرکٹ دوبارہ سے شروع ہوگی تو بولرز کو گیند چمکانے کے لیے اُس پر تھوک لگانے کی اجازت نہیں ہوگی— فوٹو: فائل

کورونا وائرس کے سبب کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کو قانونی قرار دینے پر غور کیا جارہا ہے، بولرز کو گیند پر تھوک لگانے سے روکا جائے گا اور اُس کے بجائے اُنہیں گیند چمکانے کے لیے مصنوعی مواد فراہم کیا جائے گا۔

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس قانون پر غور کیا جارہا ہے کہ جب کورونا وائرس کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوجائیں گے اور کرکٹ دوبارہ سے شروع ہوگی تو بولرز کو گیند چمکانے کے لیے اُس پر تھوک لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کےبجائے بولرز کو گیند چمکانے کے لیے مصنوعی مواد فراہم کیا جائے گا اور وہ امپائرز کی نگرانی میں اس مواد کو گیند پر استعمال کرکے اُسے چمکا سکیں گے۔

یہ قانون طویل فارمیٹ والی کرکٹ کے لیے ہوگا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میڈیکل کمیٹی نے کچھ عرصے قبل اس بات کی جانب توجہ دلائی تھی کہ کورونا وائرس کے بعد جب کرکٹ دوبارہ شروع ہوگی تو بولرز کا تھوک کے ذریعے گیند چمکانے کا عمل کرکٹرز کے لیے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وہ مصنوعی مواد موم، شو پالش یا چمڑے کو چمکانے والی پالش ہوسکتا ہے، توقع ہے کہ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی میں اس بارے میں غور وخوض کیا جائے گا جس کا اجلاس مئی کے آخر یا جون میں ہوگا۔

خیال رہے کہ موجودہ قوانین کے تحت گیند پر تھوک کے سوا کسی اور شے لگانے کی اجازت نہیں اور ایسا کرنا بال ٹیمپرنگ یعنی گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے اس کی ساخت تبدیل کرنا  کہلاتا ہے۔

فاسٹ بولرز ریورس سوئنگ کرنے کیلئے اکثر گیند کو سخت چیز سے رگڑتے ہیں تاہم یہ غیر قانونی ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM