Can't connect right now! retry

بلاگ
30 مئی ، 2020

صحت کے مسائل اور آنے والا بجٹ

فوٹو: فائل

دنیا بھر میں جاری اقتصادی بحران کے سبب تمام ہی حکومتیں سخت معاشی اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔ بجٹ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے واحد حل اب یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع میں موجود منفی عوامل کا سدباب یقینی بنایا جائے۔ پاکستان کو بھی اس تناظر میں غیرقانونی تجارت کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ پاکستان میں سگریٹس کی بلیک مارکیٹنگ اور غیرقانونی تجارت بجٹ میں خسارے کا ایک بڑا سبب ہے۔

یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کیلیے مضر ہے دنیا بھر میں اس حوالے سے سگریٹ نوشی پر قابو پانے کا سب سے موثر طریقہ کار یہ ہی ہے کہ سگریٹس کی قیمتوں میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔ پاکستان میں بجٹ کی تیاریاں اب آخری مراحل میں ہیں۔ 

ایسے میں ملٹی نیشنل سگریٹس کمپنیوں جو مارکیٹ کے بڑے حصے کی دعویدار ہیں، کی طرف سے سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کا کوئی دعویٰ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ حکومتی سطح پر اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سگریٹس پر لگائے گئے اضافی ٹیکسز کی شرح شفاف انداز میں سرکاری خزانے تک پہنچ پائے۔ 

2019۔20کے دوران سگریٹ ٹیکس چوری سے حکومت کو ہونیوالے ٹیکس محصولات کا نقصان 70ارب سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے جسے آسانی سے قومی بجٹ سے منہا کر دیا گیا ہے۔ پاکستان، ٹوبیکو کنٹرول کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت کے فریم ورک کنونشن کے ساتھ ساتھ، تمباکو مصنوعات میں غیرقانونی تجارت ختم کرنے کے پروٹوکول پر بھی دستخط کنندہ ہے۔ 

بلیک مارکیٹ اسمگلڈ سگریٹس کی غیرقانونی فروخت سے ٹیکسوں کی مد میں سگریٹس بنانے والی بڑی کمپنیاں جی بھر کرلوٹ مار کر رہی ہیں ۔ غیرقانونی سگریٹس قیمتوں میں سستے ہیں اس لیے یہ عوامی صحت کے حوالے سے جاری تشہیری مہم کو غیرموثر بناتے ہیں۔ دوسری جانب سگریٹس کی اسمگلنگ کی موثر انداز میں روک تھام کے حوالے سے بین الاقوامی ٹریک اینڈ ٹریس نظام تشکیل دیا گیا تھا اور تمام حکومتوں کی ذمہ داری تھی کہ اس کو فعال انداز میں نافذ کیا جائے۔

1990کی دہائی کے آغاز تک تمباکو کی صنعت کے حوالے سے کسی انتباہ کو اہمیت نہیں دی گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب دنیا میں تمباکو کے حوالے سے بنیادی صحت کے چیلنجز کا آغاز ہوا۔ اسی دوران سگریٹ کی فروخت کےحوالے سے سخت قانون سازی اور زیادہ ٹیکسز کا آغاز کیا گیا۔ 1990کی دہائی کے آخر میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کیسے بڑی کمپنیز دنیا بھر میں اپنے ہی سگریٹس کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ اس معاملے کی وسعت کو بھانپتے ہوئے 2003ءمیں عالمی ادارۂ صحت نے تمباکو کی غیرقانونی فروخت کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ایک فریم ورک ایف سی ٹی سی اپنایا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک سوال پوچھا گیا کہ سگریٹ بنانے والی کمپنیز آخر اپنی ہی پیداوار کیوں اسمگل کریں گی؟ اس کا جواب یہی ہے کہ سگریٹ ایسی مصنوعات میں شامل ہے جس پر بہت زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ 

اپنے ہی سگریٹس کو بلیک مارکیٹنگ میں فروخت کر کے یہ بڑی کمپنیز ٹیکس بچاتی ہیں۔ چونکہ ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا ہے، تو یہ سگریٹس سستے ہوتے ہیں اس کی وجہ سے یہ سگریٹ بنانے والی کمپنیز سگریٹ نوشوں کی تعداد میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ جن میں اسکولوں کے بچے بھی شامل ہیں۔ 

پاکستان میں غیر قانونی بلیک مارکیٹ کو جعلی اعدادوشمار اور غلط بیانیے کی وجہ سے تحفظ ملتا ہے۔ درست اعدادوشمار کو سگریٹ بیچنے والے سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ المیہ ہے کہ تمباکو کی اسمگلنگ کے حوالے سے زیادہ تر ڈیٹا یہ کمپنیزخود کنٹرول کرتی ہیں۔ 

اس حوالے سے2017کا مندرہ چھاپہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ پنجاب کی تحصیل گوجر خان کے اس قصبے میں ٹیکس عہدیداروں نے ایک گودام پر چھاپہ مارا، جہاں انہیں ساٹھ ملین روپے مالیت کے بلیک مارکیٹ کے سگریٹس کیساتھ ساتھ تمباکو تیار کرنے کے سامان کے ساتھ ساتھ پیکنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک ملا۔ جس کے بعد ایک عرصے تک اس واقعے کو زیر زمین سگریٹس اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ 

حکومت کو اس معاملہ کو سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ ابھی تک اس پورے خطے میں سب سے کم قیمت سگریٹ پاکستان میں بک رہے ہیں۔ بڑی کمپنیوں کا مافیا پاکستان میں سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حالانکہ اس سیکٹر سے حاصل ہونے والے ٹیکس سے نہ صرف صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ صحت کے مسائل پر بہ آسانی قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔ 

حال ہی میں اسد عمر صاحب نے ایک منی بجٹ پیش کیا جس میں سگریٹ پر ٹیکس بڑھا دیا گیا تھا اور اسد عمر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ان کو خوشی ہے وہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں کیوں کہ ان کے ایک بھائی کی موت پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے ہوئی تھی جس کی ایک بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔

وزیراعظم کو حقائق سے آگاہ کرنا حکومتی مشیروں کا کام ہے لیکن گزشتہ سال ہم نے دیکھا کہ انہی مشیروں نے وزیراعظم کو ان کمپنیوں سے دور رکھنے کے بجائے ان کے نمائندوں سے ملاقات کروا کر چند لاکھ ڈیم فنڈ کے نام پر دلوا دیے اور ملکی خزانے پر ایک بڑے ڈاکے کی تیاری کی گئی۔ یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد اس بات کا سخت نوٹس لیا اور سگریٹس پر ٹیکس لگانے کی حمایت کی تھی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM