Can't connect right now! retry

بلاگ
31 مئی ، 2020

کورونا وائرس کی مادہ کہاں ہے!

فوٹو: فائل

مبلغ ڈھائی مہینے گھر میں مقید رہنے کے بعد یکایک آج مجھ پر القا ہوا ہے کہ میں نے اب تک کووڈ-19کا شکریہ ادا نہیں کیا، اِس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہوں، یہ واضح رہے کہ اشرافیہ میں اِس بیماری کا نام کووڈ-19 جبکہ عوام میں کورونا ہے، سو دھوتی سے جینز میں آنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کووڈ-19کہنا سیکھ لیں۔ 

یہ اور بات ہے کہ اگر آپ وائرس کا نام بدل کر امراؤ جان ادا بھی رکھ دیں گے تو وہ بیماری ہی دے کر جائے گا مجرا نہیں کرے گا، یہ خیال بھی ابھی میرے ذہن میں آیا ہے کہ یہ مردود وائرس مذکر ہے، کوئی مادہ وائرس ہوتی تو بیویوں نے اپنے شوہروں کو بغیر کسی ویکسین کے خود ہی اِس سے بچا لینا تھا۔ 

کووڈ-19 کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ اِس کی وجہ سے میرا ماہانہ خرچہ خاصا کم ہو گیا ہے، کہیں آنا جانا نہیں ہوتا اِس لیے پٹرول کی بچت ہو رہی ہے، شاپنگ مالز بند ہیں (تھے) سو غیر ضروری شاپنگ سے بھی نجات ملی ہوئی ہے، ورنہ اکثر یہ ہوتا تھا کہ گھر سے صابن کی ٹکی لینے نکلے اور خودکار استری خرید کر لوٹے اور کئی مرتبہ تو محض مٹر گشت کرنے نکل جاتے تھے اور خواہ مخواہ تین سیر مٹر بندھوا کر لے آتے تھے، می دانم کہ دل گرفتن و خوش دامن (نجانے اِس کا کیا مطلب، یوں ہی ڈال دیا ہے، اساتذہ سے سنا ہے کہ اِس سے تحریر بارعب ہو جاتی ہے)۔ 

اِس بیماری کی وجہ سے غیر ضروری معانقوں سے بھی جان چھوٹ گئی ہے، ورنہ ہر شخص پہلی ہی ملاقات میں جپھی ڈالنے کی کوشش کرتا تھا اور آپ کے پاس بچاؤ کا طریقہ بھی نہیں ہوتا تھا، ناں ناں کرتے بھی آپ ’مردِ مقابل‘ کی بانہوں میں جھول جاتے تھے۔ 

ایک دو حضرات تو خیر اِس سے بھی دو قدم آگے جاتے ہوئے باقاعدہ چومنے کی کوشش کرتے مگر ظاہر ہے کہ فدوی نے اُن کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دی، اُن میں سے ایک صاحب آج کل کبڈی ایسوسی ایشن کے عہدیدار ہیں اور دوسرے کیلیفورنیا میں مردانہ مقابلہ حسن کروانے والی تنظیم کے سیکرٹری۔ 

ایک مہربانی کووڈ-19 نے یہ بھی کی ہے کہ غیر ضروری اور اضافی بیماریوں سے ہماری جان چھڑا دی ہے، اسپتال میں دوسری بیماریوں کے مریض کم ہو گئے ہیں، ایسے احباب بھی اب بیماری کی شکایت کرتے نظر نہیں آتے جو پہلے ہر ملاقات میں اسپتال میں گزاری ہوئی رات کا احوال یوں سناتے تھے جیسے کبھی یار لوگ شادی کی پہلی رات کا احوال سناتے تھے، اب تو دمے کا مریض بھی چھاتی پھلا کر کہتا پھرتا ہے کہ میں بالکل فِٹ ہوں، بیشک اولمپک میں دوڑ لگوا لو!

ڈاکٹر اتائی الزماں ہمارے دیرینہ کرم فرما ہیں، فارن کوالیفائڈ ہیں، آپ نے شمالی کوریا کی یونیورسٹی سے آن لائن طب کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، بھونڈ پورا میں ماشاء اللہ چلتا ہوا کلینک ہے جہاں خلق خدا کا علاج فقط دردِ دل کے واسطے کرتے ہیں، آپ کے دل میں اکثر درد رہتا ہے سو اُس کے آپریشن کے لیے پیسے جوڑ رہے ہیں، کلینک کرنے سے پہلے آپ بھاٹی چوک میں سانڈے کا تیل فروخت کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کورونا وائرس سوائے وہم کے کچھ نہیں، لوگ وائرس سے نہیں بلکہ اِس کے خوف سے مر رہے ہیں، اُن کے پاس کلینک میں روزانہ دو چار مریض ایسے آتے ہیں جنہیں بخار کے ساتھ کھانسی کی شکایت ہوتی ہے، ڈاکٹر صاحب انہیں اپنی فارمیسی کی تیار کردہ دوا پلاتے ہیں، آپ کی فارمیسی کلینک کے بالکل ساتھ واقع ہے جہاں بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جوتے اور لباس اتار کر ہی داخل ہوا جا سکتا ہے، اسی لیے ڈاکٹر صاحب اکثر لنگوٹ باندھ کر وہاں تشریف لے جاتے ہیں اور اپنے کمپوڈر کے ساتھ مل کر ہاون دستے میں جڑی بوٹیاں کوٹ کر ادویات بناتے ہیں۔ ڈاکٹر اتائی الزماں کا کہنا ہے کہ الحمدللہ تین میں سے دو مریض اُن کی دوا سے صحت یاب ہوتے ہیں۔ ’’تیسرے مریض کا کیا بنتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’وہ خوف سے مر جاتا ہے!‘‘ ڈاکٹر صاحب نے اطمینان سے جواب دیا۔

ڈاکٹر صاحب کا ذکر تو خیر یونہی بیچ میں آگیا حالانکہ آج میرا ارادہ صرف کووڈ-19 کی شکر گزاری تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ بصد کوشش میں اِس بیماری کے مزید احسانات گنوانے سے قاصر ہوں۔ 

ہمارے ایک فلسفی دوست ملک بقراط آرائیں جو بکرمنڈی میں اسٹیشنری کی دکان چلاتے اور ایک یوٹیوب چینل کے مالک ہیں، اکثر کرم فرمائی کرتے ہیں اور اپنے افکارِ عالیہ سے اِس ہیچمدان کا دامن موتیوں سے بھرتے رہتے ہیں، آپ کا تھیسز یہ ہے کہ اِس وبا نے ہمیں پرانی روایات سے جوڑ دیا ہے، خاندان قریب آگئے ہیں اور پیسے کی وقعت یکدم کم ہو گئی ہے۔ 

میرے پاس ملک صاحب کی بات سے متفق ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں، واقعی روپے کی قدر کم ہو گئی ہے، ڈالر بڑھ گیا ہے، انسانی رشتوں کی پہچان ہو گئی ہے، اب لوگ کورونا سے مرنے والے رشتہ داروں کے جنازوں میں بھی نہیں جاتے، ترقی کی دوڑ میں ہمارے پاس اپنے بچوں کو دینے کے لیے وقت نہیں تھا، اب ہم سارا دن بچوں کے ساتھ بیٹھ کر موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ 

اسی طرح ہوائی جہازوں، کارخانوں اور دوڑتی بھاگتی گاڑیوں نے فضا کا بیڑا غرق کر دیا تھا، سو میرا خیال ہے کہ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ جونہی کورونا ختم ہوگا ہم کبھی ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھیں گے، گھوڑوں اور خچروں پر سفر کریں گے۔ 

اس وبا سے پہلے ہر شخص اپنی شان بڑھانے کے چکر میں گھن چکر بنا رہتا تھا اور تمام انسان ایک عجیب نفسانفسی کے عالم میں تھے، انسانیت کا تو جنازہ ہی اٹھ گیا تھا، ایسے میں کورونا نے آکر ہمیں بریک دی ہے، اب انسانیت نہیں انسانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ 

کورونا نے ہمیں زندگی میں سوچنے سمجھنے کا موقع دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ اِس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور ہمیشہ خالص اور دیسی گھی سے تیار کردہ ریوڑیاں کھائیں۔ اگر کورونا وائرس دنیا میں نہ پھیلتا تو انسان کبھی نہ جان پاتا کہ کیسے سرمایہ دارانہ نظام اس کا خون چوس رہا ہے، اب جبکہ کورونا نے ہمیں یہ تمام سبق سکھا دیے ہیں تو ہمیں اِس معصوم اور ننھے منے سے وائرس کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اُن لوگوں کوشہید کہہ کر مطمئن ہو جانا چاہیے جو اِس بیماری کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں!


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM