Can't connect right now! retry

کھیل
02 جولائی ، 2020

میرا موازنہ کوہلی کے بجائے پاکستانی لیجنڈز کے ساتھ کیا جائے، بابر اعظم

پاکستان ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی  کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کا موازنہ بھارتی بیٹسمین ویرات کوہلی کے بجائے  پاکستان کے لیجنڈز  کے ساتھ کیا جائے۔

ووسٹر سے ویڈیو لنک پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم  کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف میچز جیتنے کے لیے پر عزم ہے، نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی ردھم میں ہیں انگلینڈ کو ٹف ٹائم دیں گے۔

وکٹ کیپر کے حوالے سے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ رضوان کا کووڈ 19 ٹیسٹ منفی آگیا ہے اور وہ انگلینڈ آرہے ہیں ، محمد رضوان کو پورا موقع ملنا چاہیے وہ پہلی چوائس ہیں، وہی پہلے ٹیم میں کھیلتے رہے ہیں۔

سابق کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ میں ان کے ساتھ نائب کپتان تھا، انہوں نے چیمپئنز  ٹرافی جتوائی، ان سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہ ایک ٹیم مین ہیں ،سب ان کے ساتھ انجوائے کرتے ہیں۔

 بابر اعظم نے کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ 3 ماہ کے بعد کرکٹ میں واپسی ہو رہی ہے، قرنطینہ کی وجہ سے بھی خدشات تھے ، سوچ رہے تھے کہ پتہ نہیں کیا ہو گا لیکن ہمیں یہاں  مشکل نہیں ہو ئی ، سب اچھا وقت گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل سے گراؤنڈ اورپھر گراؤنڈ سے ہوٹل میں وقت گزر رہا ہے، اس دوران انڈور گیمز میں بھی حصہ لیتے ہیں، ایک ساتھ وقت گزارنے کی وجہ سے بوریت کا شکار نہیں ہوں گے ، سب کا فوکس ٹریننگ اور سیریز میں اچھا پرفارم کرنے پر ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ سابق کرکٹرز سمیت سب کے سوچنے کا اپنا اپنا انداز ہے لیکن مجھے تو امید ہے کہ اس مرتبہ پاکستان ٹیم اچھا کھیلے گی ، انگلینڈ کی ٹیم کو اپنی کنڈیشنز کا فائدہ تو ہوگا ، لیکن پاکستان ٹیم کا بولنگ اٹیک بھی اچھا ہے، محمد عباس کو یہاں کھیلنے کا تجربہ ہے، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی ردھم میں ہیں ، انگلینڈ کو ٹف ٹائم دیں گے اور انگلینڈ کی ٹاپ آرڈر کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھائیں گے۔

ایک سوال پر بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ویرات کوہلی کے ساتھ موازنہ نہ کیا جائے بلکہ اپنے ملک کے کھلاڑیوں ساتھ موازنہ کیا جائے، انہیں اپنے ملک کے کھلاڑیوں کے ساتھ موازنہ کرنے پر فخر محسوس ہوگا، پاکستان نے بھی جاوید میاں داد، محمد یوسف اور یونس خان جیسے لیجنڈ  بلے باز  پیدا کیے ہیں۔

‏ بابرا عظم نے کہا کہ وہ اپنا نیچرل گیم کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں ، شارٹ پچ گیندیں کھیلنے کی بھی پریکٹس کر رہے ہیں ،اظہر علی کی طرح ان کی بھی کوشش ہوگی کہ لمبی اننگز کھیلیں اور یہاں ٹرپل سنچری بنانے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سامنے بولرز کے نام کو  نہیں  بال کو دیکھتے ہیں اور بال کو میرٹ پر کھیلتے ہیں، ہمیشہ یہی کوشش ہو تی ہے کہ بہترین کھیلوں جس سے پاکستان ٹیم کو فائدہ ہو ، انفرادی کارکردگی کی تو اہمیت ہوتی ہے لیکن اننگز وہی اچھی ہو تی ہے جس سے ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے، یہاں چونکہ ڈیوک بال استعمال ہوتا ہے تو اس سے بہت فرق پڑتا ہے، یہاں پرفارم کرنے سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے جس سے دیگر ممالک کے خلاف بھی اچھا کھیلنے کے لیے متحرک ہوتے ہیں، مجھے بھی لارڈز میں کھیلنا اچھا لگتا ہے، اس مرتبہ وہاں میچز نہیں ہیں، موجودہ حالات میں بس اس وقت یہی اچھا ہے کہ کسی طرح کرکٹ جلد از جلد شروع ہو ۔

‏ تینوں فارمیٹ کے ٹاپ 5 بیٹسمینوں میں شامل ‏بابر اعظم نے کہا کہ مصباح الحق اور یونس خان مل کر چیزوں کو پلان کر رہے ہیں ، ان کی موجودگی سے فائدہ ہو رہا ہے۔ یونس خان انگلینڈ کی کنڈیشنز کے مطابق کھیلنے کی ٹپس دے رہے ہیں۔

‏بابرا عظم نے مزید کہا کہ انگلینڈ میں کراؤڈ کی جانب سے خصوصی سپورٹ ملتی ہے ، اس مرتبہ اس سپورٹ کو مِس کریں گے ۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM