Can't connect right now! retry

بلاگ
07 اگست ، 2020

حکومت اور اپوزیشن کا کھیل

فوٹو: فائل

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کھیل کو دو سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔بظاہر حکومت اپوزیشن کو چت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔جبکہ اپوزیشن حکومت گرانے کی کوششیں کر رہی ہے۔

با خبر دوستوں کا خیال ہے کہ بے شک دونوں فریق ایک دوسرے کے نا پسندیدہ ہیں اور ایک دوسرے سے نالاں ہیں۔لیکن یہ نورا کشتی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے۔ 

اس جماعت کی لیڈر شپ کے بارے میں آئے روز خبریں آتی رہتی ہیں کہ نواز شریف بیرون ملک چلے گئے ہیں۔پارٹی صدر میاں شہباز شریف ہیں لیکن مریم نواز ان کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتیں۔پارٹی کا ایک مضبوط گروپ ان کے ساتھ ہے۔

لیکن وہ اس لئے آگے نہیں آتیں کہ ابھی تک ان کو میاں نواز شریف کی طرف سے گرین سگنل نہیں ملا ہے۔اس طرح پارٹی نہ صرف یہ کہ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے بلکہ پارٹی میں قیادت کا بحران اور فقدان بھی ہےاور یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کھل کر نہ بولتے ہیں اور نہ ہی سامنے آتے ہیں۔

اس کے علاوہ نیب کے کیسوں کی قطار ہے جو ختم ہی نہیں ہو رہی اور بقول شخصے یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے بارے میں با خبر احباب کا خیال ہے کہ پارٹی کو اصل نقصان آصف علی زرداری نے پہنچایا ہے۔

خصوصاً پنجاب جیسے بڑے صوبے میں جو حال ان کی غلط پارٹی پالیسیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا ہوا ہے اس کے بھی وہ ہی ذمہ دار ہیں۔جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو وہ اپنی بنیادوں سے ہٹ گئی۔

حکومت کے کھاتے میں مبینہ اور بظاہر انتقام، نا اہلی اور غیر منتخب افراد کے تسلط کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن با خبر احباب کے خیال میں خراب اور ناکام کار گزاری اور مافیاز کی اجارہ داری کا بھی حکومتی ناکامی میں اہم کردار ہے۔انتقامی کارروائیوں کاشکار صرف اپوزیشن کی بڑی جماعتیں ہی نہیں ہیں۔میڈیا بھی ہمہ وقت نشانے پر ہے۔

روزنامہ جنگ اور جیو کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمان انتقامی کارروائیوں کا شکار اور زندہ مثال ہیں۔کئی نامور صحافی ملازمتوں سے سبکدوش کرائے گئے۔ان سب کا قصور سچ کو بیان کرنا اور حکومتی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔حالانکہ یہ حکومت کے مفاد میں تھا کہ وہ اپنی اصلاح کرتی۔

بہر حال تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن فتح و کامرانی سچ کی ہوتی ہے۔ حکومتی زعماء اور خود وزیراعظم عمران خان نظام کا شکوہ کرتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار نظام کو ٹھہراتے ہیں۔لیکن اس نظام کی تبدیلی کے لئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کیا اقدامات کر رہے ہیں اور اب تک کیا کر چکے ہیں۔اگر کسی کو نظر آ جائیں تو براہ کرم مطلع کرے۔

حاصل تحریر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین جاری اس کھیل میں عام آدمی کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔تو عام آدمی دو ہاتھیوں کی لڑائی میں پستا جا رہا ہے۔عام آدمی کو فائدہ خاک ملنا ہے اس کو تو دہ وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔دونوں فریقوں کے اس کھیل میں مہنگائی اور بیروزگاری کی بڑھتی تیز رفتاری کے لئے اب نہ تو کوئی پیمانہ ہے نہ ہی الفاظ۔دریائوں میں پانی کی مقدار ناپنے کے لئے سیمنٹ کی اونچی تختی پر کچھ ہندسے درج ہوتے ہیں اور سب سے اوپر خطرے کی نشانی کے طور پر درج ہندسے سرخ رنگ سے لکھے ہوتے ہیں۔اسی طرح اب عوام کی بدحالی اور جذبات کی رفتار سرخ ہندسوں تک پہنچ چکی ہے۔

تمام سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کی دلفریب موسیقی سے عوام بیزار ہو چکے ہیں۔عام آدمی کے لئے یہ سب بے معنی ہے اوراگلے مہینوں میں بہت کچھ سامنے آسکتا ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کانفرنس اور حکمت عملی فی الحال بے مقصد دکھائی دیتی ہے۔

مولانا کو اس درخت سے نہ پھل مل سکتا ہے نہ سایہ۔کیونکہ یہ دونوں جماعتیں اپنے مفادات کے دائرے سے نہیں نکل سکتیں۔مولانا اگر مسلم لیگ (ق) اور دیگر جماعتوں سے ملاپ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہوگا۔

ویسے بھی اگست کے آخری ہفتے سے تبدیلیاں شروع ہوتی نظر آرہی ہیں اور نظام کو بھی کچھ ہی عرصہ بعد شاید کوئی ٹھیک کر لے۔جہاں تک مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی بات ہے تو نواز شریف ہی پارٹی کے قائد ہیں اور ان کے فیصلے ہی موثر ہوتے ہیں۔

شہباز شریف کی پالیسیوں کی وجہ سے پارٹی کے بعض اہم اراکین ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔مریم نواز کی سوچ نواز شریف کی سوچ کے مطابق ہے اور وہ سخت گیر پالیسیوں کی حامی ہیں اور اسی سوچ کے کئی اہم پارٹی رہنما ان کے حامی ہیں۔مریم نواز کی خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف ملک سے باہر ہیں اور اس وقت پارٹی کسی واضح اختلاف کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اس طرح پیپلز پارٹی اب بھی آصف علی زرداری کے زیر اثر ہے اور پارٹی قائدین یہ بات سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی بلاول بھٹو بطور چیئرمین خود سے اہم فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔البتہ ان کو تند و تیز بیانات کی حد تک اختیار حاصل ہے۔

لیکن اس طرح بلاول بھٹو چاہیں بھی تو پارٹی کو اس مقام تک نہیں لا سکیں گے جہاں وہ لانا چاہتے ہیں۔تحریک انصاف کو بوجوہ سیاسی طور پر اب وہ مقام حاصل نہیں ہے جو حاصل ہو چکا تھا۔

پارٹی کے پرانے کارکن بھی قیادت سے مایوس ہو چکے ہیں۔پنجاب اور کے پی میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہیں۔پنجاب میں تو ہر ناکامی کا قصور وار بیورو کریسی اور اعلیٰ پولیس افسران کو گردانا جاتا ہے لیکن جو بھی ہو اب نہ یہ سیاسی طور طریقے چلیں گے نہ یہ بوسیدہ نظام چلے گا۔ اب حقیقی تبدیلیاں ہوں گی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM