Can't connect right now! retry

پاکستان
19 ستمبر ، 2020

نواز شریف کے بعد آصف زرداری کا بھی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ

نواز شریف کے بعد آصف زرداری نے بھی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔

اپوزیشن کی 11 سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف ایک ہوگئیں ہیں اور کل صبح اسلام آباد میں بیٹھک جمائیں گی، میزبانی بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی کرے گی، آصف زرداری اور نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

کل نواز شریف اپنی لمبی چپ توڑیں گے، زرداری بھی ممکنہ طور پر خطاب کریں گے۔ 

آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ ن، اسفند یار ولی کی عوامی نیشنل پارٹی، مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام، بی این پی مینگل، بی این پی عوامی اور دیگر جماعتیں شریک ہوں گی، جماعت اسلامی شرکت نہیں کرے گی۔

بلاول نے والد کی شرکت کی تصدیق کردی

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کل ہونے والی اے پی سی میں اپنے والد آصف زرداری کی شرکت کی تصدیق کردی۔

بلاول نے بتایا کہ آصف زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف بھی بلاول کی دعوت پر اے پی سی میں ویڈيو لنک کے ذریعے شرکت پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔

ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے کہا ہےکہ نوازشریف کا اےپی سی سےخطاب سوشل میڈیاپلیٹ فارم سے دکھانےکےاقدامات کیے جارہے ہیں جس پر حکومت نے شدید رد عمل دیا ہے۔

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری اور نوازشریف کا خطاب سوشل میڈیا پر براہ راست دکھایا جائےگا۔

پیپلزپارٹی کے مطابق پیپلزپارٹی دونوں رہنماؤں کے ابتدائی کلمات کیلئے سوشل میڈیا پر آفیشل لنک فراہم کرے گی، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس بھی ہوگی۔

خیال رہے کہ حکومت مخالف اپوزيشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس کل پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوگی۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ کل زرداری ہاؤس اسلام آباد میں تاریخی نتیجہ خیز سیاسی اجتماع ہوگا، بلاول کی میزبانی میں اے پی سی قومی سیاست میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی، حکومت کےغیر جمہوری طرز عمل نے اپوزیشن کو متحد ہونے پر اکسایا۔ 

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM