Can't connect right now! retry

انٹرٹینمنٹ
26 ستمبر ، 2020

دپیکا نے منیجر سے منشیات منگوانے کا اعتراف کرلیا

دپیکاپڈوکون اور ان کی منیجر کرشمہ پراکاش کی 2017 کی واٹس ایپ چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر دپیکا پڈوکون ان سے منشیات منگوارہی ہیں— فوٹو: فائل

بالی وڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی تفتیش کے دوران منیجر کرشمہ پراکاش سے ’منشیات‘ کے حوالے سے کی گئی واٹس ایپ چیٹ کا اعتراف کرلیا۔

گزشتہ دنوں بالی وڈ کی صف اول کی اداکارہ دپیکاپڈوکون اور ان کی منیجر کرشمہ پراکاش کی 2017 کی واٹس ایپ چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر دپیکا پڈوکون ان سے منشیات منگوارہی ہیں۔

اس چیٹ کے سامنے آنے کے بعد بھارتی تحقیقاتی ادارے نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دپیکا پڈوکون، سارہ علی خان، شردھا کپور اور راکول پریت سنگھ کو سمن جاری کیے تھے۔

دپیکا پڈوکون شوہر رنویر سنگھ کے ہمراہ سیاحتی مقام گوا میں فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھیں، سمن جاری ہونے پر وہ ممبئی پہنچیں اور آج این سی بی کی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ سے تحقیقاتی ادارے نے تقریباً 6 گھنٹے تک تفتیش کی اور دوران تفتیش اداکارہ نے منیجر کرشمہ سے کی گئی چیٹ کا اعتراف کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل چیٹ کا عکس جس میں ’ڈی‘ کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ دپیکا ہی ہیں— فوٹو: بھارتی میڈیا

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ اور خاتون منیجر کے جوابات سے تفتیشی ٹیم مطمئن نہیں ہے۔

دوسری جانب گزشتہ روز دپیکا پڈوکون اور ان کے شوہر رنویر سنگھ نے مقامی ہوٹل میں 12 رکنی قانونی ٹیم سے ملاقات کی تھی جس میں اس حوالے سے مشاورت کی گئی۔

دپیکا اور ان کی منیجر کرشمہ کی چیٹس لیک ہونے کے معاملے میں واٹس ایپ سے ریکارڈ نہیں لیا گیا ہے بلکہ دپیکا کی 2017 تک کی چیٹ سشانت سنگھ راجپوت کی سابق منیجر جیا ساہا سے حاصل کی گئیں اور کہا جا رہا ہے کہ جیا نے ان چیٹس کا بیک اپ بنا رکھا تھا۔

خیال رہے کہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے کیس میں منشیات کے معاملے پر اب تک ریا چکرورتی اور ان کے بھائی سمیت 12 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد بالی وڈ میں بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM