Can't connect right now! retry

کاروبار
06 نومبر ، 2020

مائیکرو سسٹم لا رہے ہیں جس سے منٹوں میں لین دین ہوگا: گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ مائیکرو سسٹم لا رہے ہیں جس سے منٹوں میں لین دین ہوگا، اگر بینک کسی قسم کی رکاوٹ لا رہے ہوں تو اسٹیٹ بینک اس میں مدد کرے گا۔

گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے لاہور چیمبر آف کامرس کا دورہ کیا جہاں چیمبر  کے صدر میاں طارق مصباح، سینیئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چوہدری سے ملاقات کی۔

اس دوران صدر میاں طارق مصباح کا کہنا تھا کہ چھوٹے تاجروں کو بلاسود قرضوں کے لیے اسکیم متعارف کروائی جائے، قرضوں کی پرنسپل رقم کو 2021 جون تک ڈیفر کیا جائے اور انٹرسٹ ریٹ مزید نیچے لایا جائے۔

چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے رابطہ چلتا رہے، ہماری کوشش رہی ہے کہ جو کر سکتے وہ کام فوری کریں۔

انہوں نے کہا کہ مائیکرو سسٹم لا رہے ہیں جس سے منٹوں میں لین دین ہوگا اور ہم جدت لانا چاہتے ہیں تاکہ روایتی مسائل کا خاتمہ ہو جبکہ بینک اگر کوئی مشکلات لا رہے ہیں تو ان کو بھی حل کرنا چاہتے ہیں۔

رضا باقر کا کہنا تھا کہ چیمبر سے زیادہ انٹریکشن کرنا چاہتے ہیں، جتنے مسائل اسٹیٹ بینک سے متعلق ہیں وہ ختم کریں گے، ڈیجیٹل فنانشل سروسز، مائیکرو پیمنٹ سروسز لا رہے ہیں، اگر بینک کسی قسم کی رکاوٹ لا رہے ہوں تو اسٹیٹ بینک اس میں مدد کرے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پالیسی ریٹ پچھلے سال تک 13 فیصد تھا اور آج 7 فیصد ہے، دنیا کے کسی ملک نے اتنا زیادہ انٹرسٹ ریٹ کم نہیں کیا، ایکسچینج ریٹ 156 سے 159 ہوا ہے،کورونا کرائسس میں سپورٹ کے ساتھ انٹرسٹ ریٹ اور ایکسچینج ریٹ بھی دیکھنا تھا۔

رضا باقر کا کہنا تھا کہ ساڑھے 6 سو ارب روپے کے قرضے ڈیفر کیے ہیں، جب اسکیم دی جاتی ہے تو بڑا بزنس مین زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے لیکن ڈیفر اسکیمز میں مائیکرو فنانس بینکس کے قرضوں پر دیے گئے ہیں اور 90 فیصد قرضے چھوٹے تاجروں کے ڈیفر کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM