Can't connect right now! retry

صحت و سائنس
23 نومبر ، 2020

بچوں کا اسکرین ٹائم کس طرح محدود کیا جائے؟

فائل:فوٹو

آج کی نسل ٹیبلیٹ، اسمارٹ فونز لیے بڑی ہو رہی ہے، بلکہ یوں سمجھ لیں کہ اب الیکٹرانک گیجٹ اور انٹرنیٹ کے بنا زندگی قدرے مشکل تصور کی جانے لگی ہے۔

اگرچہ ڈیجیٹل ڈیوائسز لامتناہی تفریح سمیت تعلیمی مواد کے لیے لازم و ملزوم ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ لامحدود اسکرین ٹائم بچوں اور آپ کے خاندانی تعلقات کے لیے کس حد تک نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے؟

ایڈوانس ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو چیز والدین کو سب سے پہلے معلوم ہونی چاہیے وہ یہ کہ بچوں کا اسکرین ٹائم کس طرح محدود کیا جائے؟

اسکرین ٹائم :کس عمر کے لوگ کتنا وقت دیتے ہیں؟

فوٹو: فائل

امریکن اکیڈمی آف پیڈیا ٹرکس کی جانب سے والدین کو تفریحی ذرائع ابلاغ پر مناسب حد قائم کر نے کی تجویز پیش کی گئی، لیکن ان سفارشات کے باوجود ہینری جے قیصر  فیملی فاؤنڈیشن کی جانب سے کیے گئے مطالعے کے مطابق 8 سے 18 سال کے بچے اوسطاً ساڑھے سات گھنٹے روزانہ انٹرٹینمنٹ میڈیا پر صرف کرتے ہیں جب کہ بالغ افراد یومیہ 11 گھنٹے اسکرین کے ساتھ گزارتے ہیں۔

لہٰذا سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسکرین ٹائمنگ کس طرح آپ کو نقصان پہنچارہی ہے؟

اسکرین ٹائم کا زیادہ وقت کیوں نقصان دہ ہے ؟

فائل:فوٹو

کرداری مسائل:

ابتدائی طور پر اسکول جانے والی عمر کے بچوں کے لیے 2 گھنٹے سے زائد اسکرین ٹائم جذباتی، معاشرتی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جیسے مسائل پیدا کرنے کے امکانات بڑھاتا ہے۔

تعلیمی مسائل 

ابتدائی طور پر اسکول جانے والی عمر کے بچوں کے بیڈ روم میں ٹیلی ویژن کی موجودگی تعلیمی کارکردگی پر برے اثراے مرتب کر سکتی ہے۔

موٹاپا

 زیادہ ٹی وی دیکھنا یا موبائل فون پر ویڈیو گیمز کھیلنا موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

نیند کے مسائل

سونے سے قبل اسکرین ٹائم نیند میں خلل جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے، اسکرینوں سے خارج ہونے والی روشنی سلیپ سائیکل میں مداخلت کرتے ہوئے بے خوابی کا باعث بن سکتی ہے۔

تشدد

 امریکن اکیڈمی آف چائلڈ اینڈ ایڈولیسینٹ سائیکیٹری کے مطابق بچے جو کچھ (پرتشدد ٹی وی شوز، میوزک اور ویڈیوگیمز ) ٹی وی پر دیکھتے ہیں وہ مسائل کے حل کے وقت بالآخر اس کی تقلید بھی کر سکتے ہیں۔

خاندانی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا سبب

اے وی جی کی جانب سے 2015 میں کیے گئے سروے میں شامل ایک تہائی بچوں نے کھانے اور کھلینے کے دوران والدین کے اسمارٹ فون پر مصروف رہنے کے باعث خود کو غیر اہم تصور کیا۔

والدین کا میسیجز کا فوری ری پلائے کرنا بھی بچوں کو والدین کے لیے موبائل خود سے زیادہ اہم تصور کرنے کا سبب بنا۔

بچے کی دیکھ بھال کے دوران بطور والدین آپ کا موبائل بار بار چیک کرنا بھی ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔

2016 میں کیے گئے سروے کے مطابق والدین کا ڈیجیٹل ڈیوائسز میں دھیان بچوں میں ذہنی مسائل بڑھانے کے امکان پیدا کرتا ہے۔

اسکرین ٹائم سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے کیلیے کیا کیا جائے؟

فائل :فوٹو
  • بچوں کو بتایا جائے کہ جب آپ کسی بھی شخص کے ساتھ بیٹھے ہوں حتیٰ کہ ٹی دیکھتے وقت بھی ویڈیو گیمز بند کر دیں۔
  • والدین کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی خاطر اپنے لیے بھی صحت مند اسکرین ٹائم طے کریں۔
  • کھانے کے دوران ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی لگا دیں۔
  • ویک اینڈ نائٹ پر جب خاندان کے افراد ایک ساتھ موجود ہوں ایسے میں بچوں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر روکا جائے۔
  • گاڑی میں نو اسکرین طریقہ کار اپنایا جائے۔
  • سونے کے کمروں میں اسکرین لگانے سے گریز کیا جائے نیز ہفتے بھر میں کبھی کبھار ڈیجیٹل ڈیٹوکس مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
  • ہفتے یا مہینہ میں کم ازکم ایک رات اسکرین فری ضرور بنائیں ان اصول و قواعد کا قیام ہر ایک کی جسمانی اور جذباتی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM