Geo News
Geo News

Time 13 اگست ، 2021
انٹرٹینمنٹ

نازیہ حسن کی طلاق ہوئی تھی یا نہیں؟گلوکارہ کی 21 ویں برسی پر نیا پنڈورا باکس کھل گیا

پاکستان کی معروف گلوکارہ نازیہ حسن کے بھائی اور گلوکار زوہیب کا کہنا ہے کہ شوہر اشتیاق بیگ  مرزا کے مظالم سے تنگ آکر ان کی بہن نے طلاق لے لی تھی۔

جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں گفتگوکرتے ہوئے گلوکارہ کے بھائی زوہیب حسن کا کہنا تھا کہ میں نازیہ کے سابق شوہر کا نام بھی نہیں لینا چاہتا، لیکن اشتیاق بیگ کے مظالم سے تنگ آکر نازیہ نے طلاق لی تھی، نازیہ کی موت سے پہلے ان کی اپنی  تصدیقی شہادت بھی موجود ہے جس میں سب کچھ واضح ہے۔

زوہیب حسن کا کہنا تھا کہ نازیہ خود طلاق کے لیے پاکستان ہائی کمیشن گئی تھیں، مرزا اشتیاق بیگ کی جانب سے یہ کہنا کہ میں نازیہ کے پیسوں پر پل رہا تھا، جھوٹ اور بکواس ہے، میں نازیہ کا ہیڈ آف اٹارنی ہوں اور اب مجھے سارے فیصلے کرنے ہیں۔

گلوکارہ کے بھائی نے بتایا کہ برطانوی عدالت نے نازیہ کے بچے کو والد کے حوالے کرنے سے انکار کیا، کئی سال سے نازیہ کا بچہ ہمارے پاس ہے جس نے اب تعلیم بھی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نازیہ کے سابق شوہر کہتے ہیں کہ میں نے بچے کے تعلیمی اخراجات اٹھائے، یہ سب بھی جھوٹ ہے، مرزا اشتیاق نے بچے کی دیکھ بھال سے متعلق کبھی ہم سے رابطہ تک نہیں کیا۔

زوہیب کا کہنا تھا کہ مرزا اشتیاق بیگ برطانیہ کی عدالت میں کیس کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، بچے کی حوالگی سے متعلق مرزا اشتیاق بیگ ضرور  برطانوی عدالت جائیں۔

ان کا کہنا تھا نازیہ حسن فاؤنڈیشن سے متعلق بھی مرزا اشتیاق کے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ نازیہ حسن فاؤنڈیشن میں نہیں چلا رہا، میری والدہ چلاتی تھیں۔

مرزا اشتیاق بیگ کا ردعمل

دوسری جانب نازیہ حسن کے سابق شوہر مرزا اشتیاق بیگ  کا اسی پروگرام میں کہنا تھا کہ زوہیب حسن کے الزاما ت کو مسترد کرتا ہوں، زوہیب حسن کے خلاف پاکستان اور  برطانوی عدالت میں ایک ارب روپے ہرجانے کا کیس کروں گا، زوہیب میری نازیہ سے شادی کے خلاف تھے کیوں کہ زوہیب کا گزر بسر ہی نازیہ کی آمدنی پر تھا۔

مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا تھا کہ نازیہ کو  پہلی بار کینسر 1992 میں ہوا جس کا علاج ہوگیا تھا، نازیہ کو 2000 میں دوبارہ کینسر ہوا، نازیہ کی موت کے سرٹیفکیٹ میں واضح ہے کہ ہماری طلاق نہیں ہوئی تھی، طلاق نہ ہونے کی تصدیق پاکستان کا برطانیہ میں آفس بھی کر سکتا ہے۔