Can't connect right now! retry

بلاگ
10 نومبر ، 2021

چار سوال، چار جواب

چار سوال، چار جواب

سوال نمبر 1: کیا مذہبی گروہوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے نظریات کے تحفظ کے لئے دھرنے، احتجاج اور گھیراؤ جلاؤ کا راستہ اختیار کریں، بالکل ویسے ہی جیسے سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے یہ تمام طریقے استعمال کرتی ہیں ؟

سوال نمبر 2: اگر کوئی جماعت اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کو بنیاد بنا تی ہے تو کیا اس کے بارے میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ مذہب کا استعمال کر رہی ہےجس کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ؟

سوال نمبر 3: اگر کوئی گروہ، سیاسی یا مذہبی، طاقت کے زور پر اپنے مطالبات منوانے کے لئے ریاست کی رِٹ کو للکارے اور ریاست اِس خوف سے کوئی اقدام نہ کرے کہ اِس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خون ریزی کا خدشہ ہوگا تو کیا ایسی صورت میں ریاست کے پاس مذاکرات کے ذریعے احتجاج ختم کرنے کے علاوہ کوئی طریقہ ہوگا ؟

سوال نمبر4: کیا یہ بات درست ہے کہ ریاستی اہلکار اُس حکم کو ماننے کے پابند نہیں جو با دی النظر میں آئین اور قانون کے مطابق تو ہو مگر اسلام کے صریحاً منافی ہو؟

جواب نمبر 1: ہر فرد اور گروہ کو اپنے حقوق کے لئے پُر امن احتجاج کا حق حاصل ہے، یہ احتجاج مذہبی مطالبات منوانے کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے اور سیاسی مطالبات کے لئے بھی، شرط صرف پُر امن رہنے کی ہے۔یہ بات سرے سے غیر منطقی ہے کہ سیاسی جماعتوں کا احتجاج، لانگ مارچ یادھرنا دے کر حکومتیں الٹانا تو درست ہے مگر یہی کام اگر کوئی مذہبی گروہ کرے تو ناقابلِ قبول۔

 اِس حد تک مذہبی گروہوں کا استدلال درست ہے کہ اگر ماضی میں کسی جماعت نے یہ سب کام کیے تھے اور اُس وقت وہ سب گھیراؤ جلاؤ اور دھرنے جائز تھے تو آج کی تاریخ میں وہی سب کام یکایک ناجائز کیسے ہو گئے۔ لیکن اگر کوئی مذہبی گروہ یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ پُر تشدد احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں تو پھر اِس دلیل کے پیچھے نہیں چھپا جا سکتا کہ چونکہ فلاں جماعت نے ماضی میں یہ کام کیا تھا لہٰذا ہمارے لئے بھی یہ جائز ہوگیا۔

جواب نمبر 2: کسی بھی احتجاج یا تحریک میں مذہب کا نام استعمال کرنا غلط نہیں اور نہ ہی کوئی بھی مطالبہ محض اِس وجہ سے ناجائز ہوجاتا ہے کہ یہ مذہبی مطالبہ ہے۔ کوئی بھی فرد یا گروہ اپنے مذہبی، لسانی، سیاسی، علاقائی یا نسلی حقوق کی بنیاد پر ریاست سے کوئی بھی مطالبہ کر سکتا ہے لیکن اِس کے لئے دو شرائط ہیں۔ 

پہلی، اُس کا یہ مطالبہ کسی دوسرے فرد یا گروہ کی حق تلفی یا اُس کی آزادی سلب کرنے کا سبب نہ بنے۔ دوسرا، معاشرے میں اِس مذہبی مطالبے پر بحث کرنے کی پوری آزادی ہواور کسی شخص کو یہ خوف نہ ہو کہ اگر اُس نے کسی گروہ یا جماعت کے مذہبی مطالبےپر سوال اٹھایا تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ 

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی کو مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ اِس ملک میں مذہب کا نام نہیں لیا جانا چاہئے بلکہ اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چونکہ مذہبی معاملات میں ایک تقدیس کا پہلو ہوتا ہے اِس لئے مذہبی مطالبات پر اُس انداز میں بحث کرنا ممکن نہیں جس انداز میں لسانی، سیاسی، علاقائی یا نسلی بنیاد پر ممکن ہوتا ہے۔

 مثلاً اگر کوئی پنجابی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مطالبہ کرے تو یقیناً اُس پر سندھی اور پشتون تنقید کریں گے اور اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے، جواب میں پنجابی بھی اپنی دلیل دے گا اور یوں بات چلتی رہے گی۔لیکن جب کوئی اینکر پرسن اپنے پروگرام میں کسی مذہبی لیڈر سے اُس کے مذہبی مطالبات پر سوال کرتا ہے اورجواب میں اسے یہ کہہ کر چُپ کروا دیا جاتا ہے کہ میں تو آپ کو قران کی آیت سنا رہا ہوں اور آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ مطالبہ کیسے غلط ہے تو ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ وہ لیڈر مذہب کا استعمال کر رہا ہےکیونکہ اب اُس سے باز پُرس نہیں کی جا سکتی۔

جواب نمبر 3: مذاکرات کے ذریعے احتجاج ختم کرنے میں قطعاً کوئی حرج نہیں، طاقت کا استعمال کسی بھی ریاست کی آخری ترجیح ہونی چاہئے مگر اِس اصول کیلئے بھی چند پیشگی شرائط ضروری ہیں۔

 ریاست اپنے شہریوں میں تفریق نہیں کر سکتی یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ بلوچستان، اندرون سندھ یا فاٹا کے علاقوں میں اگر کوئی احتجاج کرے تو اپنی ’رِٹ‘ قائم کرنے کی آڑ میں اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جائے لیکن اگر اُس سے کہیں زیادہ پر تشدد احتجاج پنجاب میں ہو تو اسے پچکار کر چُپ کروایا جائے۔

 اسی طرح مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے، لیکن ایک تو ایسے معاہدے خفیہ نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ معاہدے عوام کے منتخب کردہ لیڈر کرتے ہیں نہ کہ غیر نمائندہ ارب پتی تاجر۔ آخری شرط اِس ضمن میں یہ ہے کہ کوئی بھی معاہدہ ریاست کے دستور اور قانون کے خلاف نہیں ہو سکتا اور دستور میں یہ درج ہے کہ ریاست میں کسی کو مسلح جتھے بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہاں مذہبی گروہوں کی ایک دلیل میں قدرے وزن ہے کہ ماضی میں ایک لسانی جماعت کے ڈیتھ سیل اور ٹارچر سیل بھی تھے، بچے بچے کو پتا تھا کہ کراچی میں بھتہ کون وصول کرتا ہے، لیکن اس سب کے باوجود اِن کے نمائندے دھڑلے سے ٹی وی پروگراموں پر آتے تھےلیکن بات پھر وہی کہ اگر آپ سیاسی جماعتوں کی مثال دے کر خودکو بری الذمہ قرار دیں گے تو پھر ان میں اور آپ میں کیا فرق رہ جائے گا؟

جواب نمبر 4: پاکستانی ریاست میں کسی کی یہ جرأت نہیں کہ وہ کسی سرکاری اہلکار کو صریحاًخلاف اسلام کام کرنے کا کوئی حکم دے، ایسی کوئی مثال دور دور تک نہیں ملتی۔ اگر کوئی گروہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لئے دارالحکومت میں دھرنا دینے جا رہا ہے تو کیا ریاست دیگر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی پابند نہیں ہوگی ؟ 

یہ تو ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اِس کے بارے میں یہ فتویٰ کیسے صادر کیا جا سکتا ہے کہ جو پولیس والے ڈیوٹی پر مامور تھے وہ حق و باطل کے معرکے میں باطل کے ساتھ کھڑے تھے یا یہ کہنا کہ اُن کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا یا یہ بتانا کہ شہید پولیس والے جنت میں جائیں گے۔

 اگر فیصلہ قیامت پر چھوڑنا ہے تو باقی معاملات بھی قیامت تک موخر کیوں نہ کر دیے جائیں، پھر انہیں نمٹانے کی اتنی جلد ی کیوں ہے ؟ اور اگر شہید پولیس والوں نے جنت میں جانا ہے تو اِس وقت دنیا میں اُن کے جو بال بچے ہیں وہ کہاں جائیں ؟ اُن کے لئے تو بیٹھے بٹھائے قیامت بھی آ گئی اور یہ دنیا جہنم بھی بن گئی۔

کالم کی دم: اگر یہ سوالات بی اے کے پرچے میں پوچھے جائیں اور کوئی طالب علم ان کا یہی جواب لکھے جو خاکسار نے لکھا یے تو مجھے یقین یے کہ وہ امتیازی نمبروں سے فیل ہو جائے گا۔

یہ کالم 10 نومبر 2021 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM