پاکستان
22 مئی ، 2022

لاہور سے اغوا ہونے والی طالبہ بازیاب، ہائیکورٹ نے از خود نوٹس نمٹا دیا

لاہور ہائیکورٹ نے شادباغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کو 10 بجے تک بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا— فوٹو:فائل
لاہور ہائیکورٹ نے شادباغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کو 10 بجے تک بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا— فوٹو:فائل

لاہور کے علاقے شادباغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کو بازیاب کرلیا گیا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے بھی ازخود نوٹس کی درخواست نمٹا دی ہے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نے طالبہ کی بازیابی کی تصدیق کی۔

پولیس کے مطابق طالبہ کے اغوا میں ملوث ملزمان عابداورالیاس کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اورلڑکی تفتیشی ٹیم کے ساتھ ہیں اور جلدلاہور پہنچ جائیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس کی درخواست نمٹا دی

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے شادباغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کی بازیابی کیلئے نوٹس کی دوبارہ سماعت کی۔

بازیاب بچی کے والد بھی عدالت میں موجود تھے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بچی برآمد ہو چکی ہے اور میری بچی سے بات ہو گئی ہے۔

پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ لڑکی عارف والاسے بازیاب ہوئی ہے۔

عدالت نے والد سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی بچی سے بات ہوئی ہے؟ اس پر والد نے کہا کہ جی میری بچی سے بات ہو گئی ہے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بچی پولیس کی تحویل میں واپس آ رہی ہے تو بچی کا خیال رکھیے گا۔

عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ کیس کی جلد تفتیش مکمل کیجیے گا، یہ آپ کیلئے بھی اتنااعزاز ہے جتنا میرے لیے، میں ابھی یہ از خود نوٹس نمٹارہا ہوں، آپ سب کا بہت شکریہ۔

چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ کا کہنا تھاکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سماعت میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے حکم دیا تھاکہ شادباغ سے اغوا ہونے والی 10 ویں جماعت کی طالبہ کو 10 بجے تک بازیاب کرایا جائے ورنہ وزیراعظم کو سب کو نوکری سے ہٹانے کا کہوں گا۔

واضح رہے کہ 10 ویں جماعت کی طالبہ گزشتہ روز امتحان دے کر اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر واپس گھر جارہی تھی کہ چار مسلح ملزمان طالبہ کو اغوا کرکے گاڑی میں لے گئے تھے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM