13 جولائی ، 2022
سابق وفاقی سیکرٹری یونس ڈھاگا نے کہا ہے کہ گزشتہ 13 سالوں میں کراچی کو 663 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور پنجاب کے برابر سیلز ٹیکس دینے کے باوجود شہر کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں یونس ڈھاگا نے کہا کہ وفاقی محصولات کا 56 فیصد دینے کے باوجود کراچی نظر انداز کیا جارہا ہے جب کہ سندھ کے محصولات کا 96 فیصد دینے کے باوجود بھی شہر نظر انداز ہے۔
سابق وفاقی سیکرٹری یونس ڈاگھا نے کراچی میں بارش سے ہونے والی تباہی کی تصویر شیئر کی۔
انہوں نے کہا کہ 2009 کے این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبے امیر ترین بن گئے، سندھ کے محصولات میں 815 فیصد اضافہ ہوا لیکن صوبائی بجٹ میں کراچی کا حصہ کم ہوگیا۔
یونس ڈھاگا نے کہا کہ 2009 میں کراچی کا حصہ 37 ارب روپے تھا،2021 کے بجٹ میں کراچی کا حصہ محض 3 فیصد یعنی 38 ارب روپے رہا، 2009 سے اب تک یعنی 13 برس میں کراچی کو 87 فیصد یعنی 663 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
یونس ڈھاگا نے لکھا دعوؤں اور وعدوں کے باوجود کراچی فنڈ ماسٹرز کی کالونی بنی ہوئی ہے۔