13 اگست ، 2022
بلوچستان میں مون سون کے چوتھے اسپیل نے مشکلات میں 4 گنا اضافہ کردیا ہے۔
قلعہ عبداللہ میں تین ڈیم ٹوٹ گئے جس سے سیکڑوں مکانات تباہ ہوگئے، ریلوے پٹری، کئی رابطہ پل اور کئی سڑکیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔
سیداں میں ٹریکٹر ٹرالی کے بیس سے زائد سوار بہہ گئے ، جن میں سے 6 کو بچا لیا گیا، سیلابی ریلے مختلف علاقوں میں داخل ہوگئے، حبیب زئی میں بڑی تعداد میں لوگ ریلے میں پھنس گئے۔
ادھر ڈیرہ مراد جمالی میں رابطہ سڑک بحال نہ ہونے سے درجنوں خاندان سیلابی پانی میں محصور ہو گئے ، پی ڈی ایم اے نے کیچ اور گوادر میں بھی الرٹ جاری کردیا ۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں جاری بارشوں کے باعث مزید 6 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 188ہوگئی۔
پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق صوبے میں اب تک 19ہزار 762 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے، 5103 مکانات مکمل تباہ اور 14ہزار 660 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں، صوبے میں بارشوں اور سیلاب سے 26 ہزار 929 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔