عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کا نام بدلنے کیلئے عوام سے مدد مانگ لی

اس کے لیے ایک ویب سائٹ مختص کی گئی ہے / رائٹرز فوٹو
اس کے لیے ایک ویب سائٹ مختص کی گئی ہے / رائٹرز فوٹو

عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس وائرس کا نام بدلنے کے لیے عوام سے مدد طلب کرلی ہے تاکہ تیزی سے پھیلتے مرض کا بہتر نام رکھا جاسکے۔

رواں سال مئی میں عالمی سطح پر ابھرنے والے اس مرض کے نام پر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کافی عرصے سے تحفظات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ وائرس کےموجودہ  نام سے بندروں سے امتیازی سلوک بڑھنے کا امکان ہے جن کا اس بیماری کے پھیلاؤ میں کوئی  خاص کردار نہیں۔

حال ہی میں برازیل میں بیماری پھیلنے کے خدشات پر لوگوں کی جانب سے بندروں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک ترجمان نے کہا کہ اس بیماری کا نام طے شدہ اصولوں کے مطابق رکھا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق ہم ایسے نام کو تلاش کرنا چاہتے ہیں جس میں کسی کو ہدف نہ بنایا گیا ہو اور اس حوالے سے ایک ویب سائٹ پر لوگ نام تجویز کرسکتے ہیں۔

منکی پاکس نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وائرس کو سب سے پہلے 1958 میں ایک تحقیق کے دوران بندروں میں دریافت کیا گیا، حالانکہ بعد میں اس وائرس کو متعدد جانوروں میں بھی دریافت کیا گیا۔

انسانوں میں یہ بیماری سب سے پہلے جمہوریہ کانگو میں 1970 میں دریافت ہوئی تھی اور اس کے بعد دہائیوں تک مغربی اور وسطی افریقی ممالک تک ہی محدود رہی۔

مگر رواں سال مئی سے اس بیماری کے کیسز دنیا کے دیگر حصوں میں پھیلنا شروع ہوئے اور اب تک 31 ہزار سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 12 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی ہیلتھ ایمرجنسی بھی قرار دیا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM