کھیل
02 اکتوبر ، 2022

آئی سی سی نے بین الاقوامی کرکٹ کے نئے قوانین لاگو کر دیے

نئی مجوزہ تبدیلیاں بین الاقوامی کرکٹ میں یکم اکتوبر 2022 سے لاگو ہو چکی ہیں اور اگلے ماہ آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نئے قوانین کے تحت کھیلا جائے گا — فوٹو: فائل
نئی مجوزہ تبدیلیاں بین الاقوامی کرکٹ میں یکم اکتوبر 2022 سے لاگو ہو چکی ہیں اور اگلے ماہ آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نئے قوانین کے تحت کھیلا جائے گا — فوٹو: فائل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پلیئنگ کنڈیشنز (کرکٹ قوانین) میں تبدیلیاں کردی گئی ہیں جن پر یکم اکتوبر2022 سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

سابق بھارتی کپتان سوربھ گانگولی کی سربراہی میں مینز کرکٹ کمیٹی (ایم سی سی) کی جانب سے 2017 کے کرکٹ قوانین  میں تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں، جوکہ ویمن کرکٹ کمیٹی کو بھی ارسال کی گئیں اور وہاں سے بھی مجوزہ تبدیلیوں کی توثیق کی گئی۔

نئی مجوزہ تبدیلیاں بین الاقوامی کرکٹ میں یکم اکتوبر 2022 سے لاگو ہو چکی ہیں اور اگلے ماہ آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نئے قوانین کے تحت کھیلا جائے گا۔

رائج کرکٹ قوانین میں مندرجہ ذیل نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں:

بیٹر کیچ آؤٹ کی صورت میں نان اسٹرائیکر کی واپسی:

ایک بیٹر کے کیچ آؤٹ ہو جانے کی صورت میں نیا بیٹر اسٹرائیکر اینڈ پر آئے گا، بھلے ہی آؤٹ ہونے والے بیٹر نے کیچ ہونے سے قبل دوسرے بیٹر کو کراس کر لیا ہو، اس سے قبل رائج قانون کے تحت کیچ ہونے سے قبل بیٹر کے ایک دوسرے کو کراس کرنے کی صورت میں نیا بیٹر نان اسٹرائکر اینڈ پرآتا تھا۔

بال کو چمکانے کیلئے تھوک (Saliva) کا استعمال:

نئی پابندیوں کے تحت بال چمکانے کیلئے بال پر تھوک لگانے پر عائد عارضی پابندی اب مستقل کردی گئی ہے، اس سے قبل کووڈ 19 کے باعث گیند پر تھوک لگانے پرعارضی پابندی لگائی گئی تھی، تاہم اب بھی بالرز بال چمکانے کیلئے پسینے کا استعمال کر سکیں گے۔

نئے بیٹر کی پہلی گیند کا سامنا کرنے کی تیاری:

نئے قوانین کے تحت انٹرنیشنل ون ڈے اور ٹیسٹ کے دوران نئے آنے والے بیٹر کو 2 منٹ کے اندر پہلی گیند کا سامنا کرنا ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی کیلئے یہ دورانیہ 90 سیکنڈ برقرار رہے گا، اس سے قبل نئے آنے والے بیٹر کے پاس اسٹرائیک سنبھالنے کیلئے 3 منٹ کا دورانیہ مقرر تھا، نئے قانون کے تحت مقررہ وقت پر بیٹر کے نہ پہنچنے پر فیلڈنگ کیپٹن ٹائم آؤٹ کی اپیل کر سکے گا۔

اسٹرائیکر کا بال کھیلنے کا حق:

کرکٹ قوانین کے تحت بالر پابند ہے کہ وہ بیٹر کو  پچ کے حدود میں بال کرائے، نئے قوانین کے تحت پچ سے باہر بال کرانے اور بیٹر کو پچ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی صورت میں اب امپائر کی جانب سے ڈیڈ بال کے ساتھ ایسی بال کو نو بال بھی قرار دیا جائے گا۔

فیلڈنگ سائیڈ کی جانب سے کوئی نامناسب حرکت:

فیلڈنگ سائیڈ کی جانب سے دانستہ کی گئی کسی نامناسب حرکت کی بنا پر اب امپائر بولرکی بولنگ کے دوران ڈیڈ بال کے علاوہ 5 رنز بیٹنگ سائیڈ کو پینلٹی کے طور پر دے سکتا ہے۔

نان اسٹرائیکر کا سامنے سے دوڑنا:

پلیئنگ کنڈیشنز کے نئے قانون کے مطابق رن آؤٹ کو متاثر کرنے کیلئے نامناسب کھیل کی صورت میں یہ رن آؤٹ قرار پائے گا، جبکہ اس سے قبل یہ صرف نامناسب کھیل قرار دیا گیا تھا لیکن اب باضابطہ رن آئوٹ قرار دیا جائے گا۔

بالر کی جانب سے بال کرانے سے قبل اسٹرائیکر اینڈ پر تھرو:

نئی تبدیلیوں سے پہلے بالر کی جانب سے بال کرانے سے قبل اسٹرائیکر کے کریز سے نکلنے کی صورت میں رن آؤٹ کرنے کیلئے تھرو کرنے کی اجازت تھی، تاہم اب یہ ایک ڈیڈ بال گنی جائے گی۔

دیگر اہم فیصلے:

جنوری 2022 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں متعارف کروائی گئی ’’ان میچ پینلٹی‘‘ اب 2023 کے ورلڈ کپ سپر لیگ کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی لاگو کر دی جائے گی، یہ قانون ایشیا کپ 2022 میں لاگو  تھا جہاں بھارت اور پاکستان کے  درمیان کھیلے گئے دوسرے میچ کے دوران سلو اوور ریٹ پر قانون کے اطلاق کی ایک مثال دیکھی جا چکی ہے۔ 

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM