2022 میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 10 سال کے دوران سب سے زیادہ کمی ریکارڈ

اکتوبر سے دسمبر کے دوران ایپل سب سے زیادہ فونز فروخت کرنے والی کمپنی رہی / فائل فوٹو
اکتوبر سے دسمبر کے دوران ایپل سب سے زیادہ فونز فروخت کرنے والی کمپنی رہی / فائل فوٹو

معاشی بحران، مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسمارٹ فونز کی فروخت کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے Canalys کی جانب سے اکتوبر سے دسمبر 2022 کے دوران ڈیوائسز کی فروخت کے اعدادوشمار جاری کیے گئے۔

2022 کی آخری سہ ماہی کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 17 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔

اس سہ ماہی میں آئی فونز کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث ایپل دنیا میں سب سے زیادہ فونز فروخت کرنے والی کمپنی بن گئی، جس کا مارکیٹ شیئر 25 فیصد رہا۔

مجموعی طور پر 2022 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت میں 2021 کے مقابلے میں 11 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جو 10 سال کے دوران سب سے کم تعداد ہے۔

پورے سال میں فونز فروخت کرنے کے حوالے سے سرفہرست کمپنی سام سنگ رہی جس کے بعد ایپل کمپنی دوسرے نمبر پر رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سپلائی چین کے مسائل کے باعث طلب کے مقابلے میں ڈیوائسز کی پروڈکشن میں کمی آئی جبکہ معاشی صورتحال سخت ہونے کے باعث بھی لوگوں نے نئے فونز کو کم خریدا۔

رپورٹ کے مطابق 2022 لگ بھگ تمام اسمارٹ فونز تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے بہت سخت سال ثابت ہوا۔

2022 میں سستے اور اوسط قیمت کے فونز کی طلب میں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران مہنگے ماڈلز کی طلب بھی کم ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023 میں بھی حالات زیادہ بہتر نظر نہیں آتے کیونکہ غیریقینی صورتحال اور مہنگائی کی زیادہ شرح کے باعث اسمارٹ فونز کی فروخت میں اضافے کا امکان نہیں۔

اس سے قبل 2020 میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسمارٹ فونز کی طلب میں نمایاں کمی آئی تھی مگر 2021 میں حالات کسی حد تک بہتر ہوگئے تھے۔

مزید خبریں :