بلاگ
Time 28 جنوری ، 2023

پاکستان کب دیوالیہ ہوگا؟

پاکستانی روپے کی ڈالر کے سامنے تاریخی بے قدری، بدحال معیشت اور اس کی بہتری کے آثار ہر گزرتے روز دھندلے ہونے کے سبب عام تاثر ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کو ہے۔ 

یہ اہم ترین معاملہ سیاست کی نذر کیا جانا اپنی جگہ، کچھ زمینی حقائق ایسے ضرور ہیں جن کی بنا پر ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ سر پرمنڈلاتا  نظر آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان دیوالیہ کب ہوگا اور کیا کوئی چیز اس ایٹمی طاقت کے حامل ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے؟

ملک دیوالیہ ہونے کے خدشات کے حساس ترین معاملے پر لوگ دو حدوں کو چھوئے ہوئے ہیں، ایک وہ جو پاکستان کا موازانہ سری لنکا سے کر رہے ہیں اور 9 ماہ سے ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ ملک اب دیوالیہ ہوا کہ تب جبکہ دوسرے وہ ہیں جو قرضوں میں جکڑے پاکستان کا موازانہ جاپان جیسے صنعتی ملک سے کر رہے ہیں، اس طبقے کا خیال ہے کہ اگر ملک محض قرض لینے ہی سے دیوالیہ ہوتے تو جاپان پر یہ کلنک کا ٹیکہ کب کا لگ چکا ہوتا۔

چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت مہنگائی کے نام پر گراکر اقتدار سنبھالنے والے بھی مہنگائی کا وہ طوفان لائے ہیں کہ الامان الحفیظ ، اس لیے ملک کی معاشی حالت پر ٹھوس بات چیت ہونا ناممکن ہے۔ نتیجہ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی اس اشو پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں،سنجیدہ بحث نہ ہونے سے خواص ہی نہیں عام لوگ بھی اب پہلے سے کہیں زیادہ بے یقینی کا شکار ہیں۔

خطرے کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہوتا کب ہے؟ معاملہ بالکل سادہ ہے۔ اگر آپ کی آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہیں تو آپ اس فرق کو قرض لے کر پورا کرنے پر مجبور ہوتےہیں۔ قرض کے ساتھ سود ادا کرنا پڑتا ہے، قرض کی ادائیگی دور کی بات،اگر سود کی رقم جمع کرانا بھی ممکن نہ ہو تو نیا قرض لینا پڑتا ہے تاکہ کم سے کم سود ہی نہ بڑھے۔ یہ سلسلہ لامتنا ہی نہیں رہتا کیونکہ حیثیت ختم ہوتی دیکھ کر بینک خدشات کا تخمینہ لگاتے ہیں ، مزید رقم دینا بند کردیتے ہیں اور بروقت قرض کی ادائیگی میں ناکامی پر آپ کو دیوالیہ قرار دیدیا جاتا ہے۔قرض اب بھی معاف نہیں ہوتا سو گھر یا گھر کاسامان بیچ کر قرض چکانے کی نوبت آتی ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو 1958 سے ہمارا ملک آئی ایم ایف کے در پہ دستک دیتا رہا ہے۔ کسی نہ کسی طرح قسط کی ادائیگی کر کے مزید قرض بھی یقینی بنایا جاتا رہا ۔مگرکچھ اللے تللے، کچھ ووٹرز کو لبھانے کے لیے نمائشی اقدامات اور کسی کو نواز کر اپنے سامنے بچھائے گئے کانٹے ہٹانے کی روش سے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

اس بار دیوالیہ ہونے کا خطرہ اس لیے بڑھا کہ قرض کی واپسی کے جن امکانات اور وعدوں کو مدنظر رکھ کر آئی ایم ایف نے قسط دی تھی، ان میں سے کئی پورے نہیں ہوئے۔ پھر برسات میں آٹا گیلا ہوا اور سیلاب نے 30 ارب ڈالر کی تباہی مچا دی۔الیکشن کا سال ہونے کی وجہ سے حکومت کو ڈالر، پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے سے بھی گریز کرتا دیکھا تو آئی ایم ایف نے مزید رقم دینے سے انکارکردیا، عالمی مالیاتی ادارے کو محتاط ہوتا دیکھ کر خلیجی ممالک اور دیگر عالمی بینکوں کی جانب سے ہاتھ کھینچا جانا فطری عمل ہے۔

عوام کو افیم کی گولی دے کر سہانے سپنے دکھانے والوں نے ایسے میں پاکستان کا موازانہ جاپان سے کرنا شروع کر دیا۔ اس موازنے کی شاید ایک وجہ یہ تھی کہ چین اور امریکا کے بعد دنیا کے اس تیسرے بڑے صنعتی ملک نے کورونا سے متاثر معیشت کو سنبھال تو لیا ہے مگر یہاں ملک کے ایک تہائی اخراجات قرض سے حاصل رقم ہی سے ادا کیے جانے ہیں۔

جاپان کا مقروض ہونا اپنی جگہ مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر گلوبل مینوفیکچرنگ پیداوار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو چین 28 اعشاریہ 7 پوائنٹس کے لحاظ سے پہلے ، امریکا 16 اعشاریہ 8 فیصد کے لحاظ سے دوسرے اور جاپان ساڑھے 7 فیصد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہےجبکہ یورپ کے سب سے بڑے صنعتی ملک جرمنی کا نمبر پیداوار کے لحاظ سے 5 اعشاریہ 3 فیصد ہونے کی وجہ سے چوتھا ہے۔ ہم جملے بازی میں بھارت کو کتنا ہی گرالیں مگر اس فہرست میں بھارت کا پانچواں نمبر ہے۔

جاپان اور پاکستان کا موازانہ اس لیے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ صرف سن 2019 میں جاپان نے ایک کھرب ڈالر مالیت کی اشیا پیدا کی تھیں جن میں الیکٹرانکس، آٹوموبیل، کمپیوٹر، میٹلز اور سیمی کنڈکٹر شامل تھے۔ یہ رقم 2022 میں بڑھ کر تقریباً ساڑھے 4 کھرب ڈالر تک جاپہنچی تھی جو کہ پاکستان کے مجموعی قرض سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ 9 کھرب ڈالر کی مقروض جاپانی معیشت کا غیر معمولی پہلو یہ بھی ہے کہ ٹوکیو اگر کسی کا سب سے زیادہ مقروض ہے تو وہ خود بینک آف جاپان ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ جاپان سمیت دنیا بھر کی حکومتیں قرضوں کو شہہ سرخیوں میں اس لیے بھی جگہ دیتی ہیں تاکہ عوام پر ٹیکس میں اضافے کا جواز گھڑ کر آمدن کے ذرائع بڑھائے جائیں۔

ایک طرف جاپان سے موازنہ کرنے والے تو دوسری طرف پاکستان کو سری لنکا سے مشابہہ قرار دے کر مایوسیوں کے سائے گہرے کرنے والے لوگ ہیں۔ان کے نزدیک حیثیت سے بڑھ کر لیے گئے قرضے، افراط زر، مہنگائی، بڑھتی بے روزگاری، ترسیلات زر میں کمی، حالیہ اقدام سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں غیر معمولی گراوٹ اور سب سے بڑھ کر برآمدات کے بجائے درآمدات پر انحصار معیشت کو کھو کلا کر چکا ہے۔ زرمبادلہ لانے والی کاٹن اور چاول کی قیمتی فصلیں بڑی تعداد میں سیلاب سے تباہ ہوچکی ہیں۔

جی ڈی پی کے لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کئی گنا بہتر سہی، آبادی اور جی ڈی پی کے تناسب سے سری لنکا کا پلڑا اب بھی بھاری ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دنیا کے غریب ترین ممالک پر 2021 کے اختتام پر جو قرض کی رقم واجب الادا تھی وہ ان کی درآمدات کا 10 فیصد تھی جبکہ پاکستان پر واجب الادا یہی رقم 70 فیصد تھی۔

یہ تمام مفنی عوامل اپنی جگہ پاکستان اب بھی سری لنکا نہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

پاکستان کا موازانہ سری لنکا سے کرنے والوں میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جو زمینی حقائق کے برعکس سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کی وجہ چین اور سری لنکا کی قربت کو سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سری لنکا نے چین سے کہیں زیادہ قرضے مغربی دنیا سے لیے تھے اور چین کی جانب سری لنکا کا جھکاؤ مغرب کو پسند نہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کی بھی ہے جو پاک چین سرحدی راہداری کے بندھن میں جڑ کر چین کی بیلٹ میں بندھ گیا ہے، مغربی ممالک اسے ڈیتھ ٹریپ سے کم قرار نہیں دیتے۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہوجاتا مگر یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کی حکومت آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اس حکومت کا تختہ تحریک عدم اعتماد سے نہ الٹا ہوتا تو آج پاکستان اس عمران خان کی وجہ سے دیوالیہ ہوتا جو 25 برس کی سیاسی جدوجہد کا ذکر تو بڑے فخر سے کرتے ہیں مگر اقتدار کھونے کے بعد اب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ اقتصادی مسائل ہیں کیا اوران کا حل کیا تھا؟  کوئی بڑا ترقیاتی قدم اٹھائے بغیر عمران دور میں معیشت کا وہ جنازہ نکالا گیا تھا کہ لوگ جھولی پھیلا کر حکومت جانے کی دعائیں کرتے تھے اور اس وقت کو کوستے تھے جب وہ تحریک انصاف کے سربراہ کی چکنی چپڑی باتوں میں آگئے تھے۔

بے شک پاکستان میں متوسط طبقہ بھی بری طرح تباہ ہوگیا ہے مگر آج کی دنیا پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔

یوکرین جنگ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جوار بھاٹے، غذائی اجناس کی بے انتہا قلت کے سبب قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں ۔ برطانیہ جیسے ملک میں لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ خون جماتی سردی میں یورپی شہریوں کے پاس گھروں کو گرم رکھنے کی رقم نہیں، جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بھوک اور سردی دونوں ہی سے اموات کی تعداد غیر معمولی طورپر بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں معاشی طورپر لاغر کیا گیا پاکستان اس جنگ کے اثرات سے کیسے بچ سکتا ہے؟

عشروں سے جاری معاشی بے ضابطگیوں نے ملک کو کھوکلا کردیا ہے۔اب حقیقت پسند اقتصادی اصلاحات یعنی چیزوں کو ان کی اصل قیمت پر لائے بنا چارہ ہی نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو معاشی اصلاحات کا یہ اقدام وطن لوٹنے کے ساتھ ہی لے لینا چاہیے تھے مگردیر آئے درست آئے۔ ملک معاشی طوپر کینسر کی چوتھی اسٹیج پر ہے۔یہ اصلاحات ہی مریض کا وینٹی لیٹر بھی ہیں اور ملک کے دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے امید کی کرن بھی۔

سیاسی ساکھ بالائے طاق رکھ کر اتحادی حکومت کو ہر وہ اقدام کرنا چاہیے جس سے ملک اقتصادی لحاظ سے سنبھلے،حکومتی اخراجات میں کمی اولین ترجیح ہونی چاہیے یعنی ماں، باپ ایک ایک نوالے پر گزارا کرلیں مگر بچوں کو دو نوالے ملتے رہیں۔ نجکاری کے ذریعے مالی بوجھ بنے اداروں سے جان چھڑائے اور صنعتیں لگانے کے لیے تاجروں کو سہولت دے تاکہ روزگار بڑھے۔

جہاں تک پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا تعلق ہے تو پاکستان اس لیے بھی دیوالیہ نہیں ہوگا کیونکہ اتحادی حکومت کو یہ علم ہے کہ دل پر پتھر رکھ کر اس نے اصلاحات نہ کیں اور ملک دیوالیہ ہوگیا تو یہ قوم اپنے عزیز ترین ملک کی تذلیل کرنے والی جماعتوں کوکبھی فراموش نہیں کرے گی، اتحاد میں شامل کوئی جماعت کبھی برسر اقتدار نہیں آسکے گی۔ بہتر یہی ہے کہ خون کے گھونٹ پیئں اور آگے بڑھیں تاکہ مصیبت کی گھڑی کے بعد راحت کا سامان ہونے کا امکان ہو۔

ویسے بھی یہ قوم عمران خان کی ناتجربہ کار پالیسیوں کی دوسری بار تختہ مشق بننے کی متحمل نہیں۔اتحادی حکومت کو چاہیے کہ وہ قدم اٹھائے، قوم کو بچائے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔