دنیا
19 مارچ ، 2023

آسٹریلیا کے دریا میں اچانک لاکھوں مچھلیاں کیوں مر گئیں؟

گزشتہ تین سالوں کے دوران بڑی تعداد میں مچھلیوں کے مرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مردہ مچھلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے: غیر ملکی میڈیا — فوٹو: اسکرین گریب
گزشتہ تین سالوں کے دوران بڑی تعداد میں مچھلیوں کے مرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مردہ مچھلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے: غیر ملکی میڈیا — فوٹو: اسکرین گریب

آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میننڈی میں دریائے ڈارلنگ باکا میں لاکھوں مردہ مچھلیاں دریا کی سطح پر تیرتی ہوئی پائی گئیں، جس نے لوگوں کو حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ جیسے ہی صبح نیند سے اٹھے تو ان کے سامنے پورا دریا مردہ مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا اور دریا کی سطح پر 30 کلومیٹر تک صرف مردہ مچھلیاں ہی نظر آرہی تھیں۔

ریاستی حکام  کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی موت کا سبب دریائے باکا پر بڑھتی ہوئی ہیٹ ویو کے اثرات کا نتیجہ ہے، ہیٹ ویو  سے سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور اس سے بڑے سیلابوں جیسے صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

حکام کے مطابق ہیٹ ویو نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے، اور انسانوں کے پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بعد اس کا دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں درجہ حرارت 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو چکا ہے اور اگر دنیا بھر کی حکومت نے گیسوں کے اخراج پر روک نہ لگائی تو  درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔

واضح رہے کہ دریائے ڈارلنگ باکا میں گزشتہ تین سالوں کے دوران  بڑی تعداد میں مچھلیوں کے مرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مردہ مچھلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ اس معاملے پر مزید کام کیا جائے گا تاکہ  مچھلیوں کے مرنے کے اصل اسباب معلوم کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی آسٹریلوی حکومت کی جانب سے 2012 میں دریا کو خشکی  سے بچانے اور اس کی فطری بہاؤ کو برقرار رکھنے کیلئے 13 ارب آسٹریلین ڈالرز کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔

مزید خبریں :