موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت انسانی برداشت سے باہر ہوسکتا ہے، تحقیق

ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا / اے پی فوٹو
ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا / اے پی فوٹو

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اتنا اضافہ ہو سکتا ہے جو انسانی جسم قدرتی طور پر برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔

یہ انتباہ ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا۔

جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں موجودہ سطح سے مزید ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا تو اربوں افراد کو سخت گرم اور مرطوب موسم کا سامنا ہوگا اور ہمارے جسم قدرتی طور پر ٹھنڈے نہیں ہو سکیں گے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اگر زمین کا درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھتا ہے تو صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں ابھی عالمی درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ بڑھ چکا ہے۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے عالمی درجہ حرارت کو 1.5 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے سے مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی۔

امریکا کی پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی نے جولائی 2023 میں ایک تحقیق کے دوران بتایا تھا کہ زیادہ نمی (50 فیصد سے زیادہ) اور درجہ حرارت کے امتزاج کے باعث انسانی جسم 35 کی بجائے 31 ڈگری سینٹی گریڈ پر ہی خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ خشک اور گرم موسم میں ہمارا جسم پسینے کو بخارات بناکر خود کو ٹھنڈا رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے، مگر انسان ایک مخصوص حد تک ہی پسینہ خارج کر سکتے ہیں۔

مگر اس طرح کے موسم میں جسم 40 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی روزمرہ کے کام احتیاط کے ساتھ آرام سے کر لیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں درجہ حرارت کم ہو مگر نمی زیادہ ہو تو اس سے دل اور دیگر جسمانی نظاموں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

اس طرح کے موسم میں 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر درجہ حرارت ہونے پر جسم کے لیے اپنا درجہ حرارت کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مگر اس نئی تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا کے مختلف خطے جیسے پاکستان، بھارت، مشرقی چین اور افریقا کے مختلف حصوں میں گرمی کی ناقابل برداشت شدت معمول بن جائے گی۔

زیادہ مرطوب ہیٹ ویو بہت زیادہ جان لیوا ثابت ہو گی خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ائیر کنڈیشن سسٹم تک رسائی زیادہ عام نہیں ہوگی۔

محققین نے بتایا کہ دنیا کو مرطوب موسم کے خطرات سے مقابلے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خام ایندھن کے استعمال میں ڈرامائی کمی لانے کی اشد ضرورت ہے جبکہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کچھ نہ کیا گیا تو غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک کو تباہ کن حالات کا سامنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا مطلب یہ ہوگا کہ سال بھر میں متعدد دنوں کے دوران گرمی کی شدت ناقابل برداشت ہوگی، جس کا سامنا ابھی چند گھنٹوں کے لیے ہی ہوتا ہے۔