ایس آئی سی کے کسی امیدوار نے الیکشن نہیں لڑا، خواتین کی فہرست وجود نہیں رکھتی: حامد رضا کا خط

الیکشن کمیشن نے 23 فروری کو خواتین کو جنرل نشست پر 5 فیصد کوٹہ دینے سے متعلق سنی اتحاد کونسل کو خط لکھا تھا جس کے جواب میں حامد رضا نے خط لکھا— فوٹو:فائل
الیکشن کمیشن نے 23 فروری کو خواتین کو جنرل نشست پر 5 فیصد کوٹہ دینے سے متعلق سنی اتحاد کونسل کو خط لکھا تھا جس کے جواب میں حامد رضا نے خط لکھا— فوٹو:فائل

سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کا الیکشن کمیشن کو دیا گیا خط منظرعام پر آگیا۔

الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں سے انکار کا سنی اتحاد کونسل کا 26 فروری کا خط سامنے لے آیا۔

الیکشن کمیشن نے 23 فروری کو خواتین کو جنرل نشست پر 5 فیصد کوٹہ دینے سے متعلق سنی اتحاد کونسل کو خط لکھا تھا۔

الیکشن کمیشن کے جواب میں 26 فروری کو لکھے گئے خط میں سنی اتحاد کونسل نے کہاکہ عام انتخابات میں سنی اتحاد کونسل کے نشان پر کسی امیدوار نے الیکشن نہیں لڑا، خواتین امیدوار کی کوئی فہرست وجود نہیں رکھتی لہٰذا جمع نہیں کرائی جا رہی۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے خط میں کہا ہے کہ نہ انہوں نے الیکشن لڑا ہے اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی فہرست دینے کی ضرورت ہے، جب سنی اتحاد کونسل کومخصوص نشستیں چاہیے ہی نہیں آپ کیوں انہیں مجبور کررہے ہیں؟

بیرسٹر علی ظفر نے خط سے لا علمی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا نے الیکشن کمیشن پر اپنےجوابی خط کو غلط رنگ دینے کا الزاملگا دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا خط جنرل الیکشن میں خواتین کے پانچ فیصد کوٹے سے متعلق تھا جو سنی اتحاد کونسل نے نہیں لڑا لیکن ہم نے مخصوص نشستوں سے انکار نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

مزید خبریں :