Time 21 مئی ، 2024
دنیا

ایران کےعبوری صدر نے 28 جون کو صدارتی انتخاب کا اعلان کردیا

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ایران کے عبوری صدر محمد مخبر کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہاں نے ایران میں صدارتی انتخابات 28 جون کو کرائے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق صدارتی امیدواروں کی رجسٹریشن 30 مئی سے 3 جون تک ہوگی جبکہ صدارتی انتخابات کی مہم 12 سے27 جون تک چلائی جائے گی۔

ایران میں صدارتی انتخابات صدرابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ناگہانی موت کے سبب کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے اس ہیلی کاپٹر حادثہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے تحقیقاتی کمیٹی بنادی ہے، یہ کمیٹی بریگیڈئر علی عبداللہی کی سربراہی میں قائم کی گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے جائے حادثہ پر پہنچ کر صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی وجوہات جاننے کی تحقیقات شروع کردی ہے، واقعے کی تحقیقات مکمل ہوتے ہی انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

ایران کے صدر کا ہیلی کاپٹر اتوار کی دوپہر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ایرانی میڈٰیا نے دعویٰ کیا تھا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا تاہم تکنیکی خرابی کیا تھی یہ واضح نہیں ہوسکا۔

ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا کی پابندیوں کے سبب ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا کیونکہ ایوی ایشن انڈسٹری پر امریکا نے ایران کو چیزیں فروخت کرنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

ایرانی کی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ تنظیم کے سربراہ محمد حسن نامی کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کریش ہونے سے آگ لگنے کے باوجود صدر ابراہیم رئیسی، وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان اور دیگر تمام افراد کی لاشیں قابل شناخت ہیں اوراس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں رہی۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ بہتر حالت میں آیت اللہ محمد علی آل ہاشم کی لاش ملی ہے۔

ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہونے کے ایک گھنٹے بعد تک وہ زندہ رہے اور انہوں نے صدارتی آفس کے سربراہ غلام حسین اسماعیلی کو ٹیلی فون کر کے بات بھی کی تھی۔

ایران کی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ پیر حسین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ تلاش کرنے کیلئے ایران نے بیرونی امداد پر انحصار کیا۔

ایک انٹرویو میں پیر حسین نے کہا کہ تلاش اور ریسکیو کا تمام ترعمل ایرانی حکام اور ایرانی ڈرونز کی مدد سے کیا گیا، ہیلی کاپٹر کا ملبہ پیر کی صبح پانچ بجے ملا تھا۔

مزید خبریں :