Time 25 جون ، 2024
سائنس و ٹیکنالوجی

چین کا تاریخی مشن چاند کے قطب جنوبی سے نمونے لے کر زمین پر واپس پہنچ گیا

چین کا تاریخی مشن چاند کے قطب جنوبی سے نمونے لے کر زمین پر واپس پہنچ گیا
چینگ ای 6 کا ری انٹری کیپسول / فوٹو بشکریہ سی سی ٹی وی

چین چاند کے قطب جنوبی سے نمونے اکٹھے کرکے زمین پر واپس لانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چینگ ای 6 مشن کا ری انٹری کیپسول اندرونی منگولیا کے خطے Siziwang Banner میں قیمتی سامان کے ساتھ لینڈ کرگیا۔

چاند کے قیمتی نمونوں کے ساتھ زمین پر واپسی چینی خلائی پروگرام کے لیے بہت بڑی پیشرفت ہے۔

خیال رہے کہ 3 مئی کو چینگ ای مشن چاند کی جانب روانہ ہوا تھا اور 2 جون کو چاند کی اس سائیڈ پر اترا جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتی۔

اس مشن کے لینڈر نے چاند کے قطب جنوبی کے شمال مشرقی خطے میں واقع Pole-Aitken Basin پر لینڈ کیا اور 2 دن تک وہاں کی سطح اور چٹانوں سے نمونے اکٹھے کیے۔

نمونے اکٹھے کرنے کے بعد ای 6 مشن کے لینڈر نے چاند کی سطح سے پرواز کرکے چاند کے مدار میں موجود آربٹر سے جڑنے میں کامیابی حاصل کی۔

اس کے بعد چینگ ای 6 مشن نے زمین واپسی کا سفر شروع کیا جو 20 دنوں میں مکمل ہوا۔

یہ پہلی بار ہے جب چاند کے تاریک حصے سے نمونوں کو زمین پر لایا گیا ہے، اس سے پہلے امریکا، سوویت یونین اور چین کے ایسے مشنز کے دوران چاند کی اس سطح سے نمونے اکٹھے کیے گئے تھے جو زمین سے نظر آتی ہے۔

چین کا تاریخی مشن چاند کے قطب جنوبی سے نمونے لے کر زمین پر واپس پہنچ گیا
چینی مشن نے 2 جون کو چاند کی سطح پر لینڈ کیا تھا / فوٹو بشکریہ Xinhua

چینگ ای 6 کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں سے چاند اور زمین کی ابتدائی تاریخ سے جڑے راز جاننے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق ان نمونوں سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ چاند بننے کا عمل کب شروع ہوا تھا۔

چینگ ای 6 مشن کے سے ہٹ کر بھی چین کی جانب سے رواں دہائی کے دوران کئی مشنز چاند پر بھیجے جائیں گے۔

چینگ ای 6 کے بعد چین کی جانب سے چینگ ای 7 روبوٹیک مشن کو چاند کے قطب جنوبی میں بھیجا جائے گا۔

یہ مشن وہاں برف کے آثار دریافت کرے گا جبکہ خطے کے ماحول اور موسم کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔

چینگ ای 8 مشن سے چینگ ای مشنز کا اختتام ہوگا جو وہاں ممکنہ طور پر ریسرچ اسٹیشن کے قیام کے لیے بھیجا جائے گا۔

چین چاند پر ایک انٹرنیشنل ریسرچ بیس بھی قائم کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ روس کے ساتھ شراکت داری کرے گا اور اس طرح وہاں چینی خلا بازوں کے پہنچنے کا راستہ کھلے گا۔