11 اکتوبر ، 2024
اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہنے والی سابقہ اداکارہ زرنش خان نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پاکستان پہنچنے پر ہونے والی پریشانی کے لیے ان سے معافی مانگ لی۔
ذاکر نائیک ان دنوں سرکاری دعوت پر پاکستان میں موجود ہیں جب کہ انہوں نے کچھ روز قبل کراچی میں گورنر ہاؤس سندھ میں اجتماع سے خطاب کیا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ملائیشیا سے پاکستان آتے ہوئے ہمارا 1000 کلو سامان تھا جس پر میں نے پی آئی اے کے کنٹری مینیجر سے بات کی تو اس نے یقین دہانی کرائی کہ آپ کے لیے کچھ بھی کروں گا۔
اسلامی اسکالر نے بتایا کہ 6 افراد ہیں اور سامان کا وزن 5، 6 سو کلو زیادہ ہے جس پر اس نے کہا کہ ڈریں مت، ہم اضافی سامان پر لاگو ہونے والی رقم پر آپ کو 50 فیصد رعایت دیں گے جس پر میں نے ان سے کہا کہ اس سے بہتر ہے میں مزید 4 لوگوں کو ساتھ لے آؤں وہ زیادہ سستا پڑے گا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پی آئی اے کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ اگر سامان پر رعایت دینی ہے تو مفت کریں ورنہ مت دیں، یہ پاکستان ائیرلائن کا رویہ ہے، اگر بھارت میں کوئی بھی غیر مسلم مجھے دیکھے گا تو مفت میں چھوڑے گا، یہ ہے انڈیا جہاں غیر مسلم مجھے دیکھ کر ہزار 2 ہزار کلو چھوڑ دیتا ہے مگر یہاں پاکستان میں ریاستی مہمان ہوں، میرے ویزے پر اسٹیٹ گیسٹ لکھا ہے اور پی آئی اے افسر صرف 50 فیصد ڈسکاؤنٹ دے رہے ہیں اور ایک کلو اضافی وزن پر 110 رنگٹ (7 ہزار 127 روپے) چارج کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر اتنا دکھ ہوا کہ وہ ریاستی مہمان کے طور پر آرہے ہیں اور پی اؔٓئی اے 300 کلو سامان بھی نہیں چھوڑ سکتی، مجھے نہیں چاہیے آپ کا ڈسکاؤنٹ، اس کے بجائے میں مزید 6 لوگوں کو ساتھ لے آیا اور ان کے ساتھ سامان بھی آگیا، مجھے بہت دکھ ہوتا ہے مگر یہ پاکستان کا حال ہے۔
سابقہ اداکارہ نے ذاکر نائیک کی اس وائرل ویڈیو پر تبصرہ کیا اور ان سے معافی مانگی۔
زرنش نے کہا ہر چیز میں شرمندہ کرنا فرض سمجھتی ہے ہماری قوم، ہمیں شرم آنی چاہیے، یہ شرم کا مقام ہے، میں ڈاکٹر ذاکر نائیک سے دل سے معذرت خواہ ہوں۔