28 فروری ، 2025
کراچی پولیس چیف و ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ارمغان کیس میں پولیس کی نا اہلی ہے کہ اس کام کا علم نہیں ہوا اور کئی افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔
کراچی میں ڈیفنس تھانے میں تقریب سے خطاب میں جاوید عالم اوڈھوکا کہنا تھا کہ کمیونٹی پولیسنگ کا مقصد بڑا ہے، سرکار کے پاس وسائل محدودہیں، 16 تھانوں میں سیف سٹی پروجیکٹ سے پہلے کیمرے لگالیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں 24 فیصد اسٹریٹ کرائم کم ہوا ہے، کمیونٹی پولیسنگ سے ملزمان کو پکڑنے میں مدد ملی ہے، 3 سالوں میں پہلی مرتبہ دسمبر جنوری اور فروری میں جرائم سب سے کم رہے۔
کراچی میں ٹریفک حادثات پر جاویدعالم کا کہنا تھاکہ کراچی میں روڈ حادثات کا مسئلہ سب سے بڑا ہے، پورٹ سٹی میں ہیوی ٹریفک کو نہیں روکا جا سکتا، ڈمپرز اور ٹینکرز میں کیمرے لگانے جارہے ہیں، کیمروں کی مدد سے گاڑیوں کی اسپیڈ بھی مانیٹر کی جا سکے گی۔
مصطفیٰ قتل کیس سے متعلق کراچی پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ ارمغان کیس میں پولیس کی نا اہلی ہے کہ اس کام کا علم نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کئی افسران کے خلاف کارروائی کی ہے، ارمغان 5 بارپکڑا گیا تھا، ارمغان سے تقریباً سب لوگ خائف تھے، اس کیس میں جو نام آ رہے ہیں وہ ہمارے لیے مسئلہ ہے، ابھی ایک شخص کو پکڑا اس کے منیجر کے اکاؤنٹ میں پیسے آرہے تھے۔
ان کا کہنا تھاکہ جو منشیات فروشی سے پیسے کما رہا ہے اس کو نہیں چھوڑنا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی بات ہوگئی ہے، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی ایکشن ہورہا ہے۔
یاد رہے کہ مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا اور پھر ایک ماہ بعد 8 فروری کو پولیس نے مصطفیٰ عامر کی بازیابی کیلئے کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں ایک بنگلے پر چھاپہ مارا تھا جس دوران پولیس پر فائرنگ بھی کی گئی تھی اور مقابلے میں ڈی ایس پی سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس نے ملزم ارمغان کو حراست میں لیا جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے شیراز کے ساتھ مل کر مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لیجا کر جلا دیا تھا۔