04 اپریل ، 2025
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر جوابی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ہو جو ٹرمپ کے اس حالیہ ٹیرف سے بچ سکا ہو، یہاں تک کہ انٹارکٹکا کے قریب وہ غیر آباد جزائر بھی اس ٹیرف کی زد میں آئے جہاں صرف پینگوئنز رہتی ہیں اور جہاں انسان آخری مرتبہ شاید 10 سال قبل گئے تھے۔
ٹرمپ نے یہ ٹیرف عائد کرتے ہوئے اپنے پرائے کی بھی کوئی تمیز نہیں کی اور جہاں اپنے پرانے حریف چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیا وہیں پرانے اتحادیوں کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کی زد میں آئے۔
تاہم ایک ملک ایسا تھا جو ٹیرف کا شکار ممالک کی فہرست میں ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آیا اور وہ روس ہے۔
امریکی میڈیا نے جب روس پر ٹیرف عائد نہ کیے جانے کا سوال وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ سے گیا تو انہوں نے سادہ سا جواب دیا کہ امریکا نے پہلے ہی روس پر تجارتی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اس وجہ سے روس کے ساتھ خاطر خواہ تجارت ہی نہیں ہوتی۔
خود روسی میڈیا نے بھی روس کے اس فہرست میں شامل نہ ہونے کی وجہ یہی بتائی اور کئی چینلز نے امریکی ٹریژری سیکرٹری کا امریکی میڈیا کو دیا گیا بیان نقل کیا ہے کہ روس اور بیلا روس پابندیوں کا شکار ہیں اور ہم ان ممالک سے تجارت نہیں کرتے۔
تاہم برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا نے ان ممالک پر بھی ٹیرف عائد کیا ہے کہ جن کے ساتھ تجارت کا حجم بہت معمولی ہے، مثال کے طور پر امریکا نے گزشتہ سال شام سے صرف سوا کروڑ ڈالر مالیت کی درآمد کیں اور اس پر بھی 41 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان سال 2024 میں 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کی تجارت ہوئی جن مصنوعات کی تجارت ہوئی ان میں کھاد، جوہری ایندھن اور کچھ دھاتیں شامل ہیں، اس سے امریکی حکام کے ان بیانات کی تردید ہوتی ہے کہ امریکا اور روس کے مابین خاطر خواہ تجارت نہیں ہوتی۔
روس کے برعکس یوکرین امریکی ٹیرف کی زد میں آیا۔ یوکرین کی نائب وزیر اعظم کے مطابق یوکرین نے گزشتہ سال امریکا سے 3 ارب 4 کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد کیں اور امریکا کو تقریباً 85 کروڑ ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں۔
یہی وجہ ہے کہ روس کا امریکی ٹیرف کا شکار ہونے والے ممالک میں شامل نہ ہونا تجزیہ کاروں کے لیے کم از کم حیران کن ضرور ہے۔