Advertisement

کھیل
time icon 24 جنوری ، 2022

کراچی میں پی ایس ایل میچز دیکھنے والے شائقین گاڑیاں کہاں پارک کر سکیں گے؟

مختص پوانٹس سے شٹل سروس کے ذریعے تماشائیوں کو نیشنل اسٹیڈیم تک پہنچایا جائے گا۔ فوٹو: فائل
مختص پوانٹس سے شٹل سروس کے ذریعے تماشائیوں کو نیشنل اسٹیڈیم تک پہنچایا جائے گا۔ فوٹو: فائل

کراچی میں پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل ) میچز کے شائقین کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے پوائنٹس مختص کر دیے گئے ہیں۔

پی ایس ایل کے تمام میچز کے تماشائیوں کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے حسب سابق مختلف پوائنٹس مختص کیے گئے ہیں جہاں سے شٹل سروس کے ذریعے تماشائیوں کو نیشنل اسٹیڈیم تک پہنچایا جائے گا۔

شائقین گاڑیاں کہاں پارک کرسکیں گے؟

ڈی آئی جی سکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کے ترجمان کے مطابق گاڑیاں پارک کرنے کے لیے پارکنگ گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم مسجد کے قریب حکیم سعید گراؤنڈ کو پارکنگ کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ نیشنل کوچنگ سینٹر سے ملحقہ چائنا گراؤنڈ صرف وی آئی پی ویز  کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص ہوگا۔

کن پابندیوں کا خیال رکھنا ہوگا؟

 اعلامیے کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر سی این جی سلینڈر نصب گاڑیوں کے داخلے پر سخت پابندی ہے، تماشائیوں کے لیے بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں، شائقین پاکستان بھر میں کسی بھی نامزد ایم اینڈ پی اسٹورز سے میچ کے ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ تماشائیوں کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے قومی شناختی کارڈ ہمراہ لازمی رکھنا ہوگا، لمبی قطاروں میں انتظار سے بچنے کے لیے اسٹیڈیم میں وقت سے پہلے پہنچیں،  12 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیےکورونا ویکسی نیشن لازمی ہے۔

جاری اعلامیے کے مطابق اسٹیڈیم میں داخلے سے پہلے شائقین کو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا اور  اسٹیڈیم میں داخلے کے وقت ماسک پہننا لازمی ہے۔ 

بتایا گیا ہے کہ این سی او سی کے منظور کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں تماشائیوں کو اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا جائے گا،کوئی بھی آتشی اسلحہ، کھلونا بندوقیں، دھماکہ خیز مواد، پٹاخے، سگریٹ، ماچس، لائٹر، تیز دھار مواد جیسے چاقو اور دھات یا لکڑی اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، کسی بھی بینر، پوسٹر، پلے کارڈ جس پر مذہب یا نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا فحش باتیں درج ہوں کی بھی سختی سے ممانعت ہے۔

مزید برآں   تماشائیوں کوگراؤنڈ، فنکاروں اور ساتھی تماشائیوں پرکسی قسم کی چیز پھینکنے کی اجازت نہیں ہے۔

Advertisement

@geonews_sport

Advertisement