13 اگست ، 2021
انڈونیشیا کی فوج نے ملکی افواج میں بھرتی ہونے والی نئی خواتین کیڈٹس کیلئے متنازع ورجینیٹی (کنوارپن) ٹیسٹ کی شرط ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
انڈونیشین آرمی کے چیف آف اسٹاف 'اندیکا پرکاسا 'کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے مختلف گروپوں کی جانب سے اس ٹیسٹ پر پابندی لگانے کے مطالبے پر انڈونیشین فوج میں نئی بھرتی ہونے والی خواتین کیڈٹس کے لیے ورجینیٹی ٹیسٹ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل انڈونیشیا کی فوج میں خواتین کیڈٹس کا ’ٹو فنگر ورجینیٹی ٹیسٹ‘ کیا جاتا تھا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اگر بھرتی ہونے والی خواتین کیڈٹس نے ماضی میں جنسی تعلق قائم کیا ہے تو انہیں بھرتی کے مرحلے سے باہر کردیا جائے۔
مقامی رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے انڈونیشین آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ورجینیٹی ٹیسٹ فوج میں نئی بھرتی ہونے والی خواتین کیڈٹس کی مجموعی صحت کو جانچنے کے عمل کا حصہ تھا تاہم اب اس طرح کے ٹیسٹ مزید نہیں کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی دہایوں سے کیا جانے والا ورجینیٹی ٹیسٹ رواں سال کے شروع میں ہی ختم کردیا گیا تھا لیکن اس کے نفاذ کی تاریخ نہیں بتائی گئی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مرد فوجی اہلکاروں کی منگیتروں کو بھی اس ٹیسٹ کے تابع لانے کے عمل کو ختم کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ انڈونیشیا میں خواتین کے خلاف تشدد کے قومی کمیشن (کومناس پیریمپوان) نےاس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ انھیں اس کا ثبوت چاہیے کہ ورجینیٹی ٹیسٹ ختم ہوچکا ہے۔
کمیشن نے زور دیا کہ ورجینیٹی ٹسیٹ پر پابندی لگانے کے فیصلے کو آرمی اپنے ائیر فورس اور نیوی کے قانون میں بھی تحریری طور پر شامل کرے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس نےاس عمل کو صنف کی بنیاد پر تشدد کی ایک شکل قرار دیا تھا۔