Time 03 اپریل ، 2018
پاکستان

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس: شریک ملزم کے وکیل کی جج سے تلخ کلامی، سماعت ملتوی

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار—۔فائل فوٹو/ اے ایف پی 

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ضمنی ریفرنس میں شامل شریک ملزمان پر فرد جرم آج بھی عائد نہ کی جا سکی۔

دوران سماعت ایک ملزم کے وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر جاوید اکبر شاہ کی احتساب عدالت کے جج سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔

واضح رہے کہ نیب کی جانب سے 26 فروری 2018 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آج اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار جاوید اکبر شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وہ ملزم منصور رضا کے  وکیل ہیں اور انہیں التواء چاہیے۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ 'آپ آرام سے بات کریں اور اپنا وکالت نامہ دیں'۔

جس پر جاوید اکبر شاہ سیخ پا ہوگئے اور کہا 'آپ کیا مجھے گولی مار دیں گے'۔

یہ کہہ کر صدر ہائیکورٹ بار وکالت نامہ پھینک کر چلے گئے اور جاتے ہوئے کہا کہ 'میں خود بھی جا رہا ہوں اور ملزم کو بھی لے جا رہا ہوں'۔

عدالت نے ملزم منصور رضا رضوی کی طلبی کے لیے 3 بار آواز لگوائی لیکن ملزم پیش نہ ہوا۔

جس پر عدالت نے ملزم منصور رضا رضوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار جاوید اکبر شاہ کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

بعدازاں کیس کی سماعت 5 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

کیس کا پس منظر

سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔

تاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا۔

سابق وزیر خزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

بعدازاں رواں برس 26 فروری کو نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے علاوہ نعیم محمود اور منصور رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔

احتساب عدالت نے گذشتہ ماہ 5 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 12 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔

تاہم ملزمان نعیم محمود اور منصور رضوی نے فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواست کی جبکہ سعید احمد نے عدالت میں ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

20 مارچ کو ہونے والی سماعت پر احتساب عدالت نے شریک ملزم سعید احمد کی اثاثہ جات ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کے لیے 27 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔

27 مارچ کے بعد سے مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوچکی ہیں، لیکن کسی نہ کسی وجہ کی بناء پر شریک ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور اب احتساب عدالت کی جانب سے 5 اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔


مزید خبریں :