Can't connect right now! retry

پاکستان
09 جولائی ، 2018

منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری اور فریال تالپور 12 جولائی کو سپریم کورٹ طلب

سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کو طلب کرلیا ہے — فوٹو: فائل

جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو 12 جولائی کو سپریم کورٹ میں طلب کرلیا گیا، عدالت عظمٰی نے ازخود نوٹس کیس میں تحریری حکم جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کے حکم میں ان ناموں کی تفصیل شامل ہے جن کے جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے۔ جن کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے ان میں طارق سلطان، ارم عقیل، محمداشرف، اقبال آرائیں، محمد عمیر، عدنان جاوید اور قاسم علی کے نام بھی شامل ہیں۔

تحریری حکم میں اکاؤنٹس میں رقم جمع کرانے والی 15 کمپنیوں/ کاروباری گروپس کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سجوال ایگرو فارم، ٹنڈوالہ یار شوگر ملز، ایگرو فارم ٹھٹھہ، عمیر ایسوسی ایٹس، رائل انٹرنیشنل، اقبال میٹلز، لاجسٹک ٹریڈنگ، لکی انٹرنیشنل، اے ون انٹر نیشنل، سردار محمد اشرف، حاجی مرید اکبر،اومنی گروپ و دیگر شامل ہیں۔

تحریری حکم میں اکاؤنٹس سے فائدہ اٹھانے والے 13 گروپس کے نام بھی شامل ہیں جن میں نصیرعبداللہ لوٹھا، انصاری شوگر ملز، اومنی پولیمار پیکجز، پاکستان ایتھنل، چیمبر شوگر ملز، ایگرو فارمز ٹھٹھہ شامل ہیں۔

آصف زرداری، فریال تالپور، پرتھینم ،اے ون انٹرنیشنل، لکی انٹرنیشنل، لاجسٹک ٹریڈنگ، رائل انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس بھی فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں فوجداری مقدمات دائر ہونے والوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے انور مجید، عبدالغنی مجید، اسلم مسعود، عارف خان، نورین سلطان، کرن امان، نصیرعبداللہ لوٹھا، محمد اقبال خان نوری، محمد اشرف، محمد اقبال آرائیں، محمد عمیر، عدنان جاوید، قاسم علی اور اعظم وزیر خان کا نام بھی ای سی ایل پر ڈالنے کا حکم دیا ہے۔

یونائٹیڈ بینک، سمٹ بینک اور سندھ بینک کے سی ای اوز اور صدور کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت 6 مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں سمٹ بینک کے اسٹیٹ بینک کے پاس جمع 7 ارب روپے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا ہے جبکہ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو تمام افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے چیئرمین نیب، چیئرمین ایس ای سی پی اور چیئرمین ایف بی آر کو بھی 12 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سمٹ بینک کے کھاتے داروں کے رقم پر اثر نہیں پڑے گا، اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وضاحت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے سمٹ بینک کے کھاتے داروں کے رقم پر اثر نہیں پڑے گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق سوشل میڈیا میں سمٹ بینک سے متعلق باتیں گمراہ کن ہیں،سمٹ بنک نارمل انداز میں تمام شرائط کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک کھاتے داروں اور بنکنگ سسٹم کے تحفظ کیلئے موجود ہے، پاکستان کا بنکاری نظام مضبوط اور مستحکم ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM