Can't connect right now! retry

پاکستان
03 نومبر ، 2019

حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کا فیصلہ


وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

گزشتہ روز حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اعلان کیا تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے وزیراعظم سے متعلق بیان کے خلاف عدالت جائیں گے تاہم اب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے جے یو آئی سے مذاکرات کرنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس میں مشورہ دیا کہ ہمیں سنجیدگی سے مولانا کے ساتھ مذاکرات کرکے حل نکالنا چاہیے اور بات چیت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان ابھی تک اپنے معاہدہ پر قائم ہیں تو ہمیں بات کرنی چاہیے، ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اس دوران حکومتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

اس موقع پر وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ تمام فورسز تیار ہیں، کسی بھی حالات سے نمٹیں گے۔

خیال رہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں وزیردفاع پرویزخٹک، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر نورالحق قادری، شفقت محمود، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی اور سابق وزیرخزانہ اسد عمر شامل ہیں۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن اسد قیصر کا اکرم درانی سے رابطہ

دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن و اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما و اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی سے رابطہ کیا اور ان سے ملاقات کیلئے وقت مانگا۔

ذرائع کے مطابق اکرم درانی نے اسد قیصر کو جواب دیا کہ ہم اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ 

بعدازاں اکرم درانی نے رہبر کمیٹی میں شامل دیگر اپوزیشن ارکان کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا۔

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کا آزادی مارچ چوتھے روز بھی ایچ 9 گراؤنڈ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو روز کی مہلت دی گئی تھی جس کا آج آخری دن ہے۔

گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہا تھا کہ ڈی چوک جانے سمیت کئی تجاویز زیرغور ہیں۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہوا تھا جو سکھر، ملتان، لاہور اور گجرانوالہ سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا تھا۔ 

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM