Can't connect right now! retry

قومی اسمبلی میں حکومت کی پھرتی، 15 بل پیش کیے 11 کو منظور بھی کرلیا گیا

فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں حکومت نے ایک سال میں بھی نہ ہونے والا کام ڈیڑھ گھنٹے میں کرلیا اور ریکارڈ قانون سازی کرتے ہوئے 15 بل پیش کردیے جن میں سے 11 کو منظور بھی کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں حکومتی وزراء اور پارلیمانی سیکریٹریز آرڈیننس اور بل ایوان میں پیش کرتے رہے جب کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری دھڑا دھڑ انہیں منظوری کراتے رہے۔

اپوزیشن کی جانب سے اس موقع پر شدید احتجاج کیا گیا اور آرڈیننسز نامنظور کے نعرے لگائے گئے جب کہ بلز کی کاپیاں بھی پھاڑ ڈالیں، تاہم حزب اختلاف کا احتجاج ایوان کو برق رفتار قانون سازی سے نہ روک سکا۔

پارلیمانی تاریخ میں انتہائی مختصر وقت میں آج ریکارڈ 13 آرڈیننسز پیش کیے گئے، ان میں سے 9 کو بلز کی صورت میں منظور کر لیا گیا، 7 بل ایسے تھے جو وفاقی کابینہ نے گزشتہ دنوں آرڈیننسز کے ذریعے منظور کیے تھے۔

3 آرڈیننسز میں 120 دن کی توسیع کی منظوری بھی کی گئی جب کہ پیش کیے جانے والے 15 بلوں میں سے 11 بل منظور بھی کر لیے گئے۔

منظور کیے گئے بلز میں وراثتی سرٹیفکیٹ بل 2019 ، نفاذ حقوق خواتین جائیداد بل 2019 ،لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل 2019 ، اعلیٰ عدلیہ ڈریس کوڈ بل 2019 ،بے نامی کاروباری معاملات امتناع ترمیمی بل 2019 ،قومی احتساب بیورو ترمیمی بل2019 اورتحفظ مخبر بل 2019 شامل ہیں۔

منظور کئے گئے دیگر بلز میں طبی ٹریبونل بل 2019، پاکستان طبی کمیشن بل 2019، مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل 2019 اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل 2019 شامل ہیں۔

قومی اسمبلی نے تین آرڈیننسز میں 120 دن کی توسیع کی کثرت رائے سے منظوری بھی دے دی ان میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی آرڈیننس 2019 ،قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2019 اور تعزیرات پاکستان ترمیمی آرڈیننس 2019 شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں 4 بل محض پیش کیے گئے ان میں آئین میں ترمیم کا بل 2019 ، اسلام آباد علاقائی حدود کے بزرگ شہریوں کا بل 2019، تحفظ قومی شاہرات ترمیمی بل 2019 اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2019 شامل ہیں۔

حکومت نے ایوان میں پیش کیے گئے بلوں کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجنے اور ہر شق پر بحث کرائے بغیر فوری منظور کر لیا تاہم اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور نہ ہی اجلاس کا بائیکاٹ، محض نعرے بازی پر ہی اکتفا کیا۔

ڈپٹی اسپیکر نے ایجنڈے کے ساتھ اضافی ایجنڈے کو بھی نمٹاتے ہوئے اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔

ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج جو نام نہاد قانون سازی کی گئی ہےاس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جلد بازی میں کام نمٹایا گیا اور اجلاس ملتوی کردیا جوکہ اس ادارے کی توہین ہے۔

ن لیگ کے رہ نما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موقع پر مولانا اسعد محمود نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ تو علامتی ہے، ہمارا اصل مطالبہ دوبارہ انتخابات کا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جیسے آج حکومت نے قانون سازی کی ، یہ پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ 

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM