Can't connect right now! retry

بلاگ
07 جنوری ، 2020

مستری کے شاگرد سے جنرل قاسم سلیمانی تک

فائل فوٹو

ہماری نوجوان نسل اس بات سے واقف ہی نہیں کہ پاکستان کے پہلے تیس سال ایران و پاکستان ’’یک جان دو قالب‘‘ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جس ملک نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا، اس کا نام ایران ہے۔

سب سے پہلے پاکستان کا دورہ بھی ایران کے حکمران نے کیا۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ یہاں تک بھی باتیں ہوئیں کہ ہم دونوں ملک خود کو ایک ملک تصور کریں۔ پاکستانیوں اور ایرانیوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا عام تھا۔ ہماری آپس میں رشتے داریاں تھیں۔

 ایرانیوں کی قربت کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر میں فارسی کا چلن عام تھا۔

پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کی اہلیہ کا تعلق ایران سے تھا پھر پاکستان کے پہلے مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ محترمہ نصرت بھٹو کا تعلق بھی ایران ہی سے تھا۔ ایران کے کئی محکموں کے افراد کی ٹریننگ پاکستان میں ہوا کرتی تھی۔ ایرانیوں کی قربت کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر میں فارسی کا چلن عام تھا۔

برصغیر پر طویل ترین حکمرانی کرنے والے مغل حکمران فارسی بولتے تھے۔ ان کی کتابیں تزک تیموری، تزک بابری اور تزک جہانگیری فارسی ہی میں تو ہیں۔

تصوف سے شناسائی رکھنے والے افراد مغل شہزادے دارا لشکوہ کی کتاب سکینۃ الاولیاء سے خوب واقف ہیں۔ پاکستانیوں اور ایرانیوں کی محبت اور بھائی چارے کا سفر جاری تھا کہ پانچ جولائی 1977ء کا وہ دن آ گیا جب پاکستان میں ایک آمر نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر جہاں پاکستان میں انسانی آزادیوں کو پابند سلاسل کیا، وہیں ہمیں ہمارے کئی پیاروں سے دور کر دیا۔

یہی وہ موسم تھا جب ایرانی پاکستان سے دور ہو گئے۔ پچھلے بیالیس سال سے کئی موسم گزر گئے مگر وہ پہلے جیسی محبت قائم نہ ہو سکی۔ اس میں حالات کی سنگینی کا دخل بھی ہے اور ضیاء الحق کی روحانی اولاد کا قصور بھی۔

حکومتیں کس قدر اثر انداز ہوتی ہیں، شاید اس کا اندازہ عام آدمیوں کو نہیں ہوتا ورنہ یہ کیسے ہو گیا کہ ہمارا پورا قومی ترانہ ہی فارسی میں ہے اور ہم فارسی بانوں سے اتنے دور ہو گئے۔

 ہم نے ایرانیوں کو ہندوستان کی طرف دھکیلا کیونکہ ہم نے اپنے دروازے بند کر لئے تھے۔

 ہم نے ایرانیوں کو ہندوستان کی طرف دھکیلا کیونکہ ہم نے اپنے دروازے بند کر لئے تھے۔ خیر یہ ایک لمبی بحث ہے اس پر کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔

کبھی موقع ملا تو کئی سچائیاں آپ کے سامنے لاؤں گا فی الحال جنرل قاسم سلیمانی کی بات کرتے ہیں جن کی شہادت سے حالات نے ہچکولے کھانا شروع کر دیئے ہیں۔ قاسم سلیمان اس وقت پیدا ہوا جب پاکستان اور ایران شیر و شکر تھے۔

بہار کے دنوں میں گیارہ مارچ 1957ء کو صوبہ کرمان کے ایک گاؤں میں قاسم سلیمانی ایک کسان کے ہاں پیدا ہوا، وہ بارہ سال کا تھا کہ گاؤں چھوڑ کر شہر آ گیا، گاؤں چھوڑنے کے لئے دل نہیں مانتا تھا مگر حالات دل کی کہاں مانتے ہیں سو حالات قاسم سلیمانی کو کرمان شہر میں لے آئے۔

قاسم سلیمانی کچھ عرصہ ایک مستری کا شاگرد رہا پھر کرمان واٹر آرگنائزیشن میں کنٹریکٹر بن گیا

وہ کچھ عرصہ ایک مستری کا شاگرد رہا پھر کرمان واٹر آرگنائزیشن میں کنٹریکٹر بن گیا۔ کام کاج سے فارغ ہوتا تو جم چلا جاتا اور راتوں کو امام خمینی ؒ کے خطابات سنتا۔ 1979ء میں انقلاب ایران کے بعد قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کا حصہ بن گیا۔

ابتدا میں اس نے شمال مغربی ایران میں کرد علیحدگی پسندوں کا صفایا کیا۔ 80کی دہائی میں عراق کے خلاف جنگ میں اس نے 41 ویں ڈویژن کی کمانڈ کی۔ انہوں نے عراقی فوج سے ایران کے کئی علاقے خالی کروائے۔ یوں پاسداران انقلاب میں وہ تیزی سے نام بنانے والے کمانڈر بن گئے۔

80کی دہائی میں قاسم سلیمانی پاکستانی جنرل اسلم بیگ سے بڑی عقیدت سے ملے۔ انہوں نے صدام حسین کو ہٹانے میں بھی کام دکھایا۔ وہ عراق اور شام میں داعش کی پسپائی کا باعث بھی بنے۔

امریکی حکام جنرل قاسم سلیمانی سے بہت تنگ تھے کیونکہ وہ خطے میں بچھائی ہوئی امریکہ کی ہر بساط کو لپیٹ کر رکھ دیتے تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی ایرانیوں میں ایک ہیرو کے طور پر جانے جاتے تھے، وہ بیرون ملک ایرانی دشمنوں سے لڑنے والے مشہور تھے۔

قاسم سلیمانی نے مشرق وسطیٰ میں ایک ماہر فوجی حکمت کار کے طور پر بہت نام کمایا۔

جنوری 2011ء میں ایرانی راہبر علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں زندہ شہید قرار دیا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے مشرق وسطیٰ میں ایک ماہر فوجی حکمت کار کے طور پر بہت نام کمایا۔

پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ اکثر و بیشتر ایران سے باہر آس پاس کے ملکوں میں سفر پر رہتے تھے۔ شہادت سے پہلے تین بار 2006ء، 2012ء اور پھر 2015ء میں یہ افواہیں سامنے آئیں کہ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کر دیا گیا ہے۔ کم گو اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی کو قدامت پسند حلقے بہت پسند کرتے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے وہ دوستوں سے یوں مخاطب ہوئے کہ ’’میں فرزند کربلا ہوں، شہادت میری آرزو ہے‘‘۔شہادت کی آرزو کرنے والے کو جمعہ تین جنوری کی صبح شہادت مل گئی۔ وہ بیروت میں حزب اللّٰہ کے سربراہ سید حسن نصر اللّٰہ سے مل کر بائی روڈ دمشق پہنچے، دمشق سے عام پرواز پر بغداد پہنچے اور پھر بغداد ان کے لئے مقتل ثابت ہوا۔

قطر کے العدید ایئر بیس سے اڑایا گیا ’’ہیل فائر ننجا میزائل‘‘ ڈرون کی صورت میں ان کی گاڑی کو لگا۔ اس منصوبے کی نگرانی امریکی ریاست نیواڈا کے ایئر بیس سے کی گئی۔

قاسم سلیمانی گریٹر اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔

امریکیوں اور اسرائیلیوں کی کافی عرصے سے یہ خواہش تھی کہ وہ جنرل قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹا دیں کیونکہ قاسم سلیمانی گریٹر اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔

طلسماتی شخصیت کے مالک، اعلیٰ فوجی حکمت کار قاسم سلیمانی نے شیعہ سنی کے جھگڑے میں پڑے بغیر عراق، شام اور فلسطین جیسی غیر شیعہ ریاستوں کا دفاع کیا، عراق، لبنان، شام، فلسطین اور یمن میں ملیشیائوں کو طاقتور بنایا، انہیں جنگی حکمت عملیاں سکھائیں۔

ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ راجہ ناصر عباس بتاتے ہیں کہ ’’پاکستانی قیادت نے جب یہ کہا کہ ایران پر حملہ ہوا تو ہم غیر جانبدار رہیں گے، اس پر جنرل قاسم سلیمانی بولا کہ اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو ہم اپنا خون دیں گے، پاکستان کیلئے شہید ہونا میرے لئے باعثِ افتخار ہے‘‘۔ بقول اقبال

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM