Can't connect right now! retry

کاروبار
31 جنوری ، 2020

کورونا وائرس: چین سے تجارت معطل، درآمدی مال پر اسپرے کیا جائیگا

فائل فوٹو

لاہور چیمبر نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر چین سے تجارت معطل کرنے کا اعلان کردیا جب کہ چین سے آنے والے درآمدی مال پر اسپرے بھی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاہور چیمبر کے کنوینر رحمت اللہ جاوید کے مطابق تاجروں کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے تجارت معطل کرکے تمام کنٹینرزکی درآمد روک دی گئی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ چین سے تجارت فی الحال ایک ماہ کے لیے روکی گئی ہے اور ساتھ ہی مقامی صنعتکاروں و تاجروں کو ویزوں کا اجراء بھی روک دیا گیا ہے۔

اعلامیے کے  مطابق چین سے مجموعی تجارت کا حجم 15 ارب ڈالر ہے تاہم چین کے علاوہ دیگر ممالک سے تجارتی اشیاء منگوانے پر غور کیا جارہا ہے۔

درآمدی مال پر اسپرے ہوگا

دوسری جانب ایف پی سی سی آئی نے چین سے درآمد کی جانے والی کھانے پینے کی تمام چیزوں پر جراثیم کش اسپرے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس ضمن میں کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ چین سے آنے والے درآمدی مال پرپہلے اسپرے کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چین سے پھیلتے ہوئے پُراسرار کورونا وائرس کے کیسز سنگاپور، ویت نام، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت 23 ممالک میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔

چین سے دنیا میں پھیلنے والا ’کورونا وائرس‘ اصل میں ہے کیا؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین صحت کی ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM