Can't connect right now! retry

دنیا
08 فروری ، 2020

امریکی سفارتخانے کے احاطے میں 5 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے پر فردجرم عائد

بچوں سے جنسی زیادتی کے حوالے سے موجود قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہے— فوٹو: فائل

بھارت میں امریکی سفارتخانے کے احاطے میں 5 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 25 سالہ ملزم پر فردجرم عائد کردی گئی۔

بھارت میں واقع امریکی سفارتخانہ کے احاطے میں 25 سالہ بھارتی شخص نے 5 سالی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ یکم فروری کی صبح پیش آیا جب مجرم بچی کو بہلا پھسلا کر ساتھ لے گیا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔

ڈاکٹرز نے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کردی تھی جس کے بعد بچی کے والدین نے اتوار کو مجرم کے خلاف رپورٹ کا اندراج کیا تھا۔

اب بھارتی پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی میڈیکل ٹیسٹ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ملزم نے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ بچوں سے جنسی زیادتی کے حوالے سے موجود قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہے۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان کا واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم واقعے کی تحقیقات میں ہر طرح سے پولیس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ ہماری تمام تر حمایت اور ہمدردیاں بچی اور اُس کے گھر والوں کے ساتھ ہیں۔ الزام ثابت ہونے پر مجرم کے خلاف فوراً کارروائی عمل میں لائی جائے۔

خیال رہے کہ متاثرہ بچی کے والد امریکی سفارتخانے میں ملازم ہیں اور ان کا خاندان امریکی سفارتخانے میں واقع اسٹاف کوارٹر میں ہی رہائش پزیر ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مجرم ایک ڈرائیور ہے لیکن وہ امریکی سفارتخانے کا ملازم نہیں البتہ وہ سفارتخانے کے اسٹاف کوارٹرز میں ہی اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے کیوں کہ اس کے والد سفارتخانے کے ملازم ہیں۔

امریکی سفارتخانہ دہلی کے علاقے چانکیا پوری میں واقع ہے جہاں دیگر ممالک کے سفارتخانے اور ہائی کمیشنز بھی موجود ہیں۔

بھارت میں 2012 میں دہلی کی بس میں طالبہ کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ اور اور اس کے قتل کے بعد اس حوالے سے قوانین سخت کیے گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں احتجاج کیا گیا تھا اور ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بھارت بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل کوششیں کر رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں بھارت میں تقریباً 34 ہزار ریپ کیسز سامنے آئے تھے اور یہ کیسز بھی صرف وہ ہیں جو سامنے آئے، بہت سے ریپ کیسز لوگ بدنامی کے ڈر سے سامنے نہیں آنے دیتے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں زیادتی کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تراپنے جاننے والوں کے ہاتھوں ہی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM